غیریقینی صورتحال مہنگائی میں اضافے کا سبب، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا گیا، ایران جنگ کے اثرات اور گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث مہنگائی کو 7 فیصد کی حد میں لانے کا ہدف بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے فیصلے کے پیچھے کئی اہم عوامل ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مسلسل دباؤ ہے اور خام تیل فی بیرل 100 ڈالر سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی سپیشل بچے کرتے ہیں، اسٹیٹ بینک کا انکشاف

 حکومت نے کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا مکمل بوجھ مقامی صارفین پر منتقل نہیں ہوا، تاہم اس کے باوجود توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا مہنگائی پر خاصا اثر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں کے علاوہ ملک میں گندم، آٹے اور ان سے متعلقہ اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی وجوہات میں یہ دونوں عوامل نمایاں ہیں، جبکہ ان کے علاوہ قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

گزشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے مقابلے میں حالیہ عرصے کے دوران مہنگائی کے منظرنامے میں بگاڑ آیا ہے اور قیمتوں میں اضافے کا رجحان زیادہ نمایاں ہوا ہے۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ اس سے قبل توقع تھی کہ مالی سال 2027 کے اختتام، یعنی جون 2027 تک یا اگلے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ستمبر سے پہلے مہنگائی کو 7 فیصد کی حد میں لایا جا سکے گا، تاہم گزشتہ 2 ماہ اور بالخصوص 6 ہفتوں کے دوران پیش آنے والی صورت حال کے باعث اس ہدف کے حصول کی توقعات متاثر ہوئی ہیں۔ اب مہنگائی کو مقررہ مدت میں اس سطح تک لانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورت حال بھی ایک اہم عنصر ہے اور یہ واضح نہیں کہ آنے والے دنوں میں حالات کس سمت جائیں گے۔ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے پاکستان کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔
ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں اس پہلو پر بھی غور کیا گیا کہ اگر موجودہ مرحلے پر شرح سود میں اضافہ نہ کیا جاتا تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات کرنا پڑ سکتے تھے۔ اس فیصلے کا مقصد مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنا اور قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ شرح سود میں اضافے کے باوجود برآمد کنندگان کے لیے رعایتی مالی سہولتیں برقرار رہیں گی۔

 برآمد کنندگان کو قلیل مدتی مالی ضروریات کے لیے بینکوں کے ذریعے ساڑھے 4 فیصد شرح سود پر سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ طویل مدتی اسکیم کے تحت پہلے 2 سال کے لیے 2 فیصد اور اس کے بعد اگلے 8 سال کے لیے 5 فیصد مقررہ شرح سود پر قرضے دستیاب ہوں گے۔ اس طرح برآمد کنندگان کو 10 سالہ مالی معاونت کی سہولت میسر رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ قلیل مدتی ورکنگ کیپیٹل کی سہولت کو بھی اسی شرح پر جاری رکھنے کے لیے بینکوں سے بات کی جائے گی۔ ان اقدامات کے باعث شرح سود میں حالیہ اضافے کا برآمد کنندگان پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت کی ترجیح میں شامل ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بھی 5 فیصد مقررہ شرح سود برقرار رہے گی۔ اسی طرح دیگر ترجیحی شعبوں کے لیے پہلے سے اعلان کردہ مقررہ شرح سود کی اسکیمیں بھی جاری رہیں گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے سے ملک کی عالمی کریڈٹ ریٹنگ بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کی تاریخی بلند ترین کریڈٹ ریٹنگ بی پلس رہی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک اب ڈبل بی ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے درکار اقدامات پر توجہ دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں ذخائر میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا اہم عوامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹیٹ بینک نے بینکوں کی سرمایہ کاری کے قواعد میں اہم تبدیلیاں کر دیں

بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کی تعداد سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ترسیلات زر اور بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے کارکنوں کے اعدادوشمار کو حقائق کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق 2015 میں ایک سال کے دوران 9 لاکھ 47 ہزار کارکن بیرون ملک گئے تھے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 8 لاکھ 47 ہزار اور 2025 میں 7 لاکھ 47 ہزار رہی۔

 ان اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 2 سال میں بیرون ملک جانے والے کارکنوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔