کراچی (کشمیر ڈیجیٹل) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کی مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری سے متعلق نافذ العمل قواعد و ضوابط میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ان نئے قواعد کے تحت بینکوں کے لیے مختلف کمپنیوں اور فنڈز میں رقم کی سرمایہ کاری کے حوالے سے نئی حدود کا تعارف کرایا گیا ہے۔
نئے نافذ کردہ ضوابط کے تحت اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام بینکوں کے لیے اپنی سرمایہ کاری کی باقاعدہ اور جامع پالیسی کی تشکیل کو لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ مالیاتی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی حدود
اسٹیٹ بینک کے نئے قواعد کے مطابق اب کوئی بھی بینک کسی ایک کمپنی کے اندر اپنے بنیادی سرمائے کے ۵ فیصد تک یا پھر متعلقہ کمپنی کے کل حصص کے ۱۰ فیصد تک سرمایہ کاری کرنے کا مجاز ہو گا۔
اس کے علاوہ اسٹارٹ اپس کے شعبے میں بینکوں کے لیے سرمایہ کاری کی حد ۵۰ کروڑ روپے یا بینک کے کل بنیادی سرمائے کا ۵ فیصد مقرر کی گئی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ فِن ٹیک اسٹارٹ اپس کے شعبے پر بھی یہی سرمایہ کاری کے نئے قواعد لاگو ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل سیونگز اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
میوچل فنڈز، رئیل اسٹیٹ اور خطرات کا جائزہ:
نئے قواعد و ضوابط کے تحت میوچل فنڈز اور رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فنڈز میں بھی سرمایہ کاری کے لیے حد کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اب کسی بھی ایک فنڈ کے اندر بینک کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری، اس کے بنیادی سرمائے کے ۵ فیصد سے یا متعلقہ فنڈ کے کل یونٹس کے ۲۰ فیصد سے تجاوز نہیں کر سکے گی۔
اسٹیٹ بینک نے پابند کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری کا عمل شروع کرنے سے قبل بینکوں کو متعلقہ ادارے کی مالی حالت، ممکنہ خطرات اور متوقع منافع کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور مختلف فنڈز میں لگائی گئی رقم کو بھی مجموعی سرمایہ کاری کا حصہ ہی شمار کیا جائے گا۔
این آئی ٹی یونٹس کی رعایت اور پرانے ضوابط:
مرکزی بینک کے نئے احکامات کے مطابق نیشنل انویسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے یونٹس کو اس کی نجکاری کا عمل مکمل ہونے تک مخصوص اور خاص رعایت حاصل رہے گی۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے مزید وضاحت کی گئی ہے کہ ان نئے قواعد کے علاوہ سرمایہ کاری سے متعلق دیگر تمام سابقہ اور پرانے قواعد و ضوابط بدستور برقرار اور نافذ العمل رہیں گے۔




