مظفرآباد: واٹر سپلائی کے پائپ بار بار چوری، چمیاں کھیتر رہائشیوں کا احتجاج

مظفرآباد: حلقہ نمبر ایک کوٹلہ، یونین کونسل مچھیارا کے نواحی گاؤں چمیاں کھیتر کے رہائشیوں محمد بشیر، محمد نصیر، نذیر حسین، مستری محمد حسن، مستری یوسف اور دیگر نے مرکز ایوانِ صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور اس بنیادی سہولت سے محرومی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ہمارے علاقے میں واٹر سپلائی اسکیم کے پائپ بار بار چوری کیے جانے کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن متعلقہ پولیس حکام کو درخواستیں دینے کے باوجود تاحال مسئلے کا مؤثر حل نہیں نکل سکا۔

متاثرین نے کہا کہ ان کے علاقے میں 2007ء سے واٹر سپلائی اسکیم قائم ہے، جس کے ذریعے چمیاں کھیتر سمیت گلی، کوٹ، نلہ اور دیگر ملحقہ آبادیوں کے مکین پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرتے رہے ہیں۔ اس اسکیم سے علاقے کے متعدد گھرانے مستفید ہوتے ہیں اور پہاڑی علاقے میں پانی کی فراہمی کے لیے بچھائی گئی پائپ لائن مقامی آبادی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر ان کے رقبے سے تقریباً ایک ہزار فٹ پائپ چوری کر لیا گیا، جس کے نتیجے میں واٹر سپلائی اسکیم متاثر ہوئی اور عوام کو پانی کی فراہمی میں مشکلات پیش آئیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر معاملے کو حل کرنے کے لیے عمائدین اور اہلِ علاقہ پر مشتمل تقریباً 40 سے 50 افراد کا جرگہ بھی منعقد ہوا، جس میں پائپ چوری ہونے کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔

متاثرین کے مطابق جرگے کے دوران مقامی عمائد میر شفیق نے تجویز دی کہ جب تک چوری ہونے والے پائپ واپس نہیں ملتے، اہلِ علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت عارضی طور پر پائپ نصب کرکے پانی کی فراہمی بحال کریں۔ چنانچہ گلی، کوٹ، نلہ اور دیگر ملحقہ آبادیوں کے مکینوں نے باہمی تعاون سے دوبارہ پائپ نصب کیے اور واٹر سپلائی اسکیم کو بحال کرنے کی کوشش کی، تاکہ گھروں میں پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت مسئلے کا حل نکالنے کے باوجود اکتوبر 2026ء کو مبینہ طور پر دوبارہ پائپ چوری کر لیے گئے، جس سے واٹر سپلائی اسکیم ایک مرتبہ پھر متاثر ہوئی اور عوام کو پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پریس کانفرنس کے شرکاء نے الزام عائد کیا کہ ان واقعات میں سخاوت شاہ نامی ایک اسکول ٹیچر ملوث ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور تمام دستیاب شواہد، گواہان کے بیانات اور دیگر متعلقہ معلومات کی روشنی میں حقائق سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی شکایت پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: گیس سلنڈرز کی زائد قیمتوں کے خلاف ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر

متاثرین نے بتایا کہ مبینہ پائپ چوری کے واقعے کے خلاف پولیس چوکی پٹہکہ میں درخواست دی گئی تھی۔ ان کے بقول پولیس اہلکاروں نے موقع کا معائنہ بھی کیا اور گواہان کے بیانات بھی لیے، لیکن اس کے باوجود تاحال کوئی ایسی کارروائی سامنے نہیں آئی جس سے انہیں انصاف ملنے کی امید پیدا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ایس ایس پی مظفرآباد کو بھی تحریری درخواست دی گئی، جس پر انہوں نے تعاون کرتے ہوئے درخواست متعلقہ ایس ایچ او کو ارسال کی، تاہم متاثرین کے مطابق اس کے باوجود کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے پریشان ہیں، دوسری طرف بار بار پائپ چوری ہونے سے سرکاری یا عوامی نوعیت کی واٹر سپلائی اسکیم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ غریب عوام اپنی مدد آپ کے تحت پائپ خریدنے اور نصب کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ انہیں یہ یقین دہانی بھی درکار ہے کہ آئندہ ان کی واٹر سپلائی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ان کے مطابق بار بار جرگے کرنے سے مسئلے کا مستقل حل نہیں نکل رہا، اس لیے اب متعلقہ اداروں کو قانونی اور انتظامی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پریس کانفرنس کے شرکاء نے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر، ایس ایس پی مظفرآباد اور ایس ایچ او تھانہ کہوڑی سے مطالبہ کیا کہ ان کی درخواست پر فوری توجہ دی جائے، مبینہ پائپ چوری کے واقعات کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار افراد کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور متاثرہ واٹر سپلائی اسکیم کی بحالی و تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ کسی بھی علاقے کے عوام کو باہمی تنازعات، مبینہ چوری یا انتظامی غفلت کے باعث اس سہولت سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ چمیاں کھیتر اور ملحقہ آبادیوں کے عوام بھی دیگر شہریوں کی طرح پانی کی بلا تعطل فراہمی کے حق دار ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر اہلِ علاقہ کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھیں: گیس سلنڈر کی زائد قیمتوں پر ہائی کورٹ نوٹس، سیکرٹری انڈسٹریز اور کمشنرز طلب