مظفرآباد میں ایل پی جی گیس سلنڈرز کی اوگرا (OGRA) کے مقررہ نرخوں سے دگنی سے بھی زائد قیمتوں پر سرعام فروخت کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی گئی ہے۔ اس ضمن میں سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے تین معروف وکلاء نے آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ مظفرآباد میں حکومتِ آزاد کشمیر اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف باضابطہ رِٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔
ہائی کورٹ میں دائر کی گئی اس پٹیشن میں وکلاء ایڈووکیٹ امان شفیق اعوان، ایڈووکیٹ سید کاشان علی اور ایڈووکیٹ عمر نشاط بانڈے مدعی (Petitioners) کے طور پر شامل ہیں۔ مدعیان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دارالحکومت سمیت خطے بھر میں گیس سلنڈرز کی اوگرا کی مقررہ سرکاری قیمتوں سے دگنی سے بھی زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے، جس سے عام شہری اور غریب عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو فریق بنانے کی تفصیلات:
درخواست گزاروں نے اس اہم مفادِ عامہ کے معاملے میں حکومتِ آزاد کشمیر، چیف سیکرٹری، محکمہ انڈسٹریز اینڈ کامرس، سیکرٹری فنانس، آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی (بذریعہ سیکرٹری اسمبلی) اور پرائس کنٹرولر کمیٹی (بذریعہ چیئرمین) کو فریق بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد:ایل پی جی سلنڈر کی مقررہ قیمت 3200 روپے، فروخت 6000 روپے میں ہونے لگے
اس کے علاوہ گیس سلنڈرز کی غیر قانونی قیمتوں اور گرانفروشی پر قابو پانے میں ناکامی پر کمشنر مظفرآباد ڈویژن، کمشنر میرپور ڈویژن اور کمشنر پونچھ ڈویژن راولاکوٹ کو بھی پٹیشن میں رسپانڈنٹس (Respondents) کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
قانونی چارہ جوئی اور عوام کی امیدیں:
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ عوام الناس کے معاشی استحصال کا نوٹس لے اور اوگرا کے طے شدہ سرکاری نرخوں پر گیس سلنڈرز کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو سخت احکامات جاری کرے۔
قانونی و عوامی حلقوں کی جانب سے وکلاء کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ہائی کورٹ کے تدخل سے گیس کی من مانی قیمتوں اور گرانفروشی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔




