میرپور: یومِ تاسیس پر ظفر مغل کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام مکتوب

میرپور: بانی چیئرمین کشمیر کمیٹی کشمیر پریس کلب میرپور اور انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز آزاد کشمیر کے صدر ظفر مغل نے 24 اکتوبر کو اقوام متحدہ اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے یوم تاسیس کے موقع پر انتونیو گوتریس، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے نام لکھے گئے مکتوب میں تحریر کیا ہے کہ “جموں و کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کے معزز سیکرٹری جنرل کی جانب سے دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ظاہر کی جانے والی گہری تشویش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کشمیری عوام نے کبھی بھی اپنے حقِ آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے مسلسل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے ذریعے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ ان کی خواہشات کا تعین اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی 5 جنوری 1949ء کی قرارداد کے مطابق یہی مسئلہ کشمیر کا واحد جائز اور قابلِ قبول حل ہے”۔

مکتوب میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے معزز سیکرٹری جنرل نے اس مسئلے کے پُرامن حل کے لیے بھارت اور پاکستان کو معاونت اور ثالثی کی پیشکش کی تھی، تاہم بھارت کی جانب سے اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت مسئلہ جموں و کشمیر پر سخت گیر اور غیر لچک دار مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور وقفے وقفے سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچ رہا ہے اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ان واقعات نے عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس صورتِ حال سے خطے کے امن و سلامتی کو فوری خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے اقوام متحدہ کے معزز سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کی آزادانہ خواہشات معلوم کی جا سکیں، کیونکہ کشمیری عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے اپنا مستقبل طے کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد وہ اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کا حق بھی رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ سونا ہزاروں روپے سستا ہو گیا

ظفر مغل نے اپنے مکتوب میں تحریر کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس اہم مسئلے کو سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائیں اور ان پر زور دیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی پالیسیوں میں عملی اقدامات کو ترجیح دیں۔ ان ارکان پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل ناکامی پورے جنوبی ایشیائی خطے میں شدید بے چینی اور عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے، بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ چونکہ دونوں ممالک جوہری صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے ایسی جنگ کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ناقابلِ تصور اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

اس لیے اقوام متحدہ کے معزز سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر سے مسلح افواج کے مکمل انخلا کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد علاقے میں ایک محدود امن دستہ تعینات کیا جا سکتا ہے، جس کی ذمہ داری مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک خطے میں امن و امان برقرار رکھنا ہو۔ اور بالآخر جموں و کشمیر کے عوام کو یقین ہے کہ اقوام متحدہ کے معزز سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل ریاست جموں و کشمیر کو ایک عبوری اقوام متحدہ کی انتظامیہ کے تحت متحد کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں گے۔ اس انتظام کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کو ایسا جمہوری عمل منظم کرنے کا موقع مل سکے گا جس کے ذریعے وہ اپنے سیاسی مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کر سکیں، جیسا کہ اقوام متحدہ، بھارت اور پاکستان کی جانب سے کیے گئے وعدوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ اقوام متحدہ کے یومِ تاسیس اور ریاست جموں و کشمیر کے یومِ تاسیس کی تاریخ یکساں ہے، یعنی 24 اکتوبر، اس مناسبت سے ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ استصوابِ رائے کے لیے منتظم مقرر کیا جائے اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان (UNCIP) کی ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر اور مثبت مداخلت کی جائے جو کئی دہائیوں سے زیرِ التوا ہیں۔

مکتوب کے آخری حصے میں ظفر مغل نے تحریر کیا ہے کہ کشمیری عوام کو امید ہے کہ اقوام متحدہ کے معزز سیکرٹری جنرل اس اہم معاملے پر فوری توجہ دیں گے، نہ صرف بروقت جواب فراہم کریں گے بلکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے ٹھوس اور مثبت اقدامات بھی اٹھائیں گے۔