آزاد جموں و کشمیر میں ایل پی جی گیس سلنڈرز کی دگنی سے بھی زیادہ ناجائز قیمتوں پر فروخت کے خلاف دائر رِٹ پٹیشن پر عدالت العالیہ (ہائی کورٹ) نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کیس کی ابتدائی سماعت کرتے ہوئے سیکرٹری انڈسٹریز اور آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز کے کمشنرز کو بروز منگل (شخصی طور پر) عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
یہ رِٹ پٹیشن پٹیشنرز امان شفیق اعوان، سید کاشان علی اور عمر نشاط بانڈے ایڈووکیٹس کی جانب سے آزاد حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ کیس میں پٹیشنرز کی جانب سے قانونی نمائندگی اور پیروی ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ، اسد خان ایڈووکیٹ اور وقار فاروق عباسی ایڈووکیٹ نے کی۔
اوگرا نرخوں کی خلاف ورزی اور وکلاء کا مؤقف:
عدالت کے سامنے دائر درخواست میں وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے مطابق گیس کی سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر ہے، جبکہ اس کے برعکس آزاد کشمیر بھر میں گیس 650 روپے فی کلو کی من مانی اور زائد قیمت پر سرعام فروخت کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: گیس سلنڈرز کی زائد قیمتوں کے خلاف ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ گیس سلنڈرز کی اس طرح دگنی سے بھی زیادہ قیمتوں پر فروخت سے عام شہریوں کا شدید معاشی استحصال ہو رہا ہے اور انتظامیہ اس گرانفروشی کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
عدالت العالیہ کا تحریری حکم نامہ:
چیف جسٹس ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد جاری کردہ تحریری آرڈر میں قرار دیا کہ پٹیشن کو باضابطہ منظور کرنے سے قبل تمام متعلقہ رسپانڈنٹس سے پیرا وائز کمنٹس (جوابات) حاصل کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پٹیشن اور منسلک دستاویزات کی کاپیاں فریقین کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق رسپانڈنٹ نمبر 3 (سیکرٹری انڈسٹریز) اور رسپانڈنٹس نمبر 7، 8 اور 9 (کمشنر مظفرآباد، کمشنر میرپور اور کمشنر پونچھ ڈویژن) کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مورخہ 27 اکتوبر 2026 (بروز منگل) کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔




