پشاور واقعہ، انکوائری کمیٹی قائم، تمام سکولوں کی عمارتوں کی جانچ کا بھی فیصلہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر فخر عالم نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے جب کہ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے 2 رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبے کے تمام اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا سروے اور تکنیکی معائنہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور اسکول سانحہ: وزیراعظم آزاد کشمیرکا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

 اس دوران اسکولوں کی چھتوں، دیواروں، بنیادوں اور ستونوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ عمارتوں کی مضبوطی اور طلبہ و اساتذہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ڈاکٹر فخر عالم کے مطابق اسکولوں کی عمارتوں کو محفوظ، مرمت طلب اور غیر محفوظ کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا جب کہ غیر محفوظ عمارتوں کی فوری نشاندہی کرکے ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

چیف سیکرٹری نے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرلی ہے اور تمام اضلاع کو ہدایت کی ہے کہ سروے رپورٹس 26 اکتوبر تک جمع کرائی جائیں جب کہ ہر سرکاری اسکول کی عمارت کے لیے سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ بھی جمع کرانا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے محکمہ مواصلات و تعمیرات کو تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو اسکولوں کی عمارتوں کا تکنیکی معائنہ کریں گی۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ کے لیے بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

دوسری جانب چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے پشاور کے نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے 2 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی، سیکرٹری ٹرانسپورٹ زبیر احمد کو کمیٹی کا چیئرمین جب کہ چیف انجینئر سی اینڈ ڈبلیو جمشید علی خان کو رکن مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پشاور اسکول حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 34ہو گئی

انکوائری کمیٹی اسکول کی عمارت کی ساخت اور تعمیراتی معیار کا جائزہ لے گی جب کہ حادثے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین بھی کرے گی۔ کمیٹی کو ذمہ داروں کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کی سفارش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کمیٹی کو 7 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنا ہوگی، جس کی روشنی میں حادثے کے ذمہ داروں کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا سکیں گے۔