اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کی تمام تر توجہ اس وقت صوبے میں عوامی خدمات کی فراہمی اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانے پر ہے، جبکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں دو روز تک تفصیلی بحث ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سے مذاکرات آخری مرحلہ میں مراد سعید نے سبوتاژ کئے، محسن نقوی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں اپنا مؤقف پیش کیا، جبکہ ان کے بقول اپوزیشن کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت کا بنیادی مؤقف یہ رہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ تعاون کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قابل قبول نہیں کہ صوبے میں لوگ دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہوتے رہیں اور صوبائی حکومت ان واقعات کی مذمت تک نہ کرے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے معاملے میں یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ ان پر کیا الزامات عائد کیے جا سکتے ہیں اور ان کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی ممکن ہے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے امکان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اس مرحلے پر پارٹی پر پابندی لگانے یا اس بارے میں حتمی رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے ریڈار پر آ گئے
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ بطور وزیر ان کا کام معلومات فراہم کرنا ہے، اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرنا نہیں۔
فیصل واوڈا کے حالیہ بیانات سے متعلق سوال پر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ان باتوں کا جواب خود فیصل واوڈا ہی دے سکتے ہیں، وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔




