پشاور اسکول حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 29 ہو گئی، اسپتال میں ایمرجنسی اور امدادی کارروائیاں جاری

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی خستہ حال عمارت کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق برکی اور مشیراطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے میڈیا کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

ڈائریکٹر ایل آر ایچ ڈاکٹر طارق برکی نے بتایا کہ چونکہ اسکول ڈبل اسٹوری تھا، اس لیے اوپر کی منزل کے بچوں کے بعد نچلی منزل سے بھی بچوں کو ریسکیو کر کے اسپتال لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس وقت تک کل 23 زخمی افراد اسپتال لائے گئے ہیں جن میں 22 معصوم بچے اور 1 زخمی ٹیچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد (ڈیڈ باڈیز) کی کل تعداد 29 ہو چکی ہے، جن میں 2 اساتذہ اور 27 طلبہ  کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر طارق برکی نے مزید بتایا کہ والدین کی خواہش کے مطابق قانونی کارروائی اور لواحقین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے میتیں ان کے حوالے کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور میں نجی اسکول کی خستہ حال عمارت کی چھت گر گئی: 27 بچے اور 2 ٹیچر جاں بحق

مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے غمزدہ لواحقین سے ملاقات کی، ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمی بچوں کی عیادت کی۔

ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو اور حکومتی عزم:

ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اور بعد ازاں جاری کردہ بیان میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا کہ معصوم بچوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی خبر پر دلی دکھ اور صدمہ ہوا ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا غم کی اس انتہائی مشکل گھڑی میں متاثرہ بچوں کے والدین اور خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہم ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

میتوں کی سہولت کے ساتھ حوالگی اور شفافیت:

مشیر اطلاعات نے بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ اہلکار موقع پر موجود ہیں اور متاثرہ والدین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ قانونی کارروائی کو مکمل کرتے ہوئے ایسا آسان طریقۂ کار اپنایا جا رہا ہے جس سے لواحقین کو کم سے کم تکلیف کا سامنا کرنا پڑے。 جاں بحق بچوں کی میتیں والدین کی سہولت اور خواہش کے مطابق ترتیب وار ان کے حوالے کی جائیں گی، جبکہ جاں بحق اور زخمی افراد کی تعداد میں کسی بھی تبدیلی سے عوام کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا جائے گا۔

مسافروں اور عوام سے اپیل:

ثمر ہارون بلور نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ ایمبولینسز اور مریضوں کی نقل وحرکت کے لیے راستے کھلے رکھیں اور ہسپتالوں کے اندر غیر ضروری رش لگانے سے گریز کریں تاکہ زخمیوں کی جان بچانے اور طبی امداد میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

سخت ترین ایکشن اور ریسکیو ٹیموں کی تعریف:

انہوں نے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی بروقت اور جانفشانہ امدادی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا کہ اس دلخراش سانحے کے تمام ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔

آخر میں مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے زخمی بچوں کی جلد صحت یابی اور غمزدہ خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔