پاکستانیوں کے لیے سود سے پاک ‘حج سیونگ پلان’ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل

اسلام آباد : حج کا ارادہ رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے حکومت نے اخراجات کا ایک عملی حل پیش کر دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سود سے پاک حج سیونگ پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت عازمینِ حج تھوڑی تھوڑی رقم جمع کر کے مقدس سفر کی تیاری کر سکیں گے۔ اس منصوبے کی راہ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، وزارت خزانہ اور قومی بچت کی مشترکہ سمری کی منظوری کے بعد ہموار ہوئی ہے۔

یہ خصوصی بچت اسکیم عازمین کو حج کے اخراجات کی پہلے سے منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرے گی۔ اس اسکیم کی سب سے نمایاں اور اہم بات اس کا سود سے پاک ہونا ہے، کیونکہ بہت سے مسلمان روایتی بچت کے طریقوں سے ہچکچاتے ہیں، اسی لیے اس پہلو کو عوامی سطح پر خاص اہمیت حاصل ہوگی۔

عازمین کے لیے مجوزہ سہولیات اور خصوصیات:

مجوزہ نظام کے تحت عازمین ڈیجیٹل ذرائع سے گھر بیٹھے ماہانہ رقم جمع کرا سکیں گے۔ اس اسکیم میں بچت کی مدت اپنی مرضی سے منتخب کرنے کا اختیار ہوگا اور جمع شدہ فنڈز اہل خانہ کو بھی منتقل کیے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر رقم بغیر کسی کٹوتی کے نکلوائی جا سکے گی، جس سے لوگوں کا رقم پھنس جانے کا خدشہ ختم ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی نشست پر ضمنی انتخاب، باحجاب خاتون کامیاب

وفاقی سیکریٹری مذہبی امور ابرار احمد مرزا کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں وزارت خزانہ، مرکزی قومی بچت اور حج ونگ کے افسران نے شرکت کی۔ سیکریٹری نے بتایا کہ اسکیم کا بنیادی مقصد بروقت اور منظم مالی منصوبہ بندی ہے، جو بڑھتی مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد دے گی۔ حج کے اخراجات میں ہر سال ہونے والے اضافے کے پیش نظر ماہانہ چھوٹی بچت مڈل کلاس خاندانوں کے لیے ایک حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔

عمرہ اور زیارات کے لیے گنجائش اور ڈیجیٹل نظام:

اس منصوبے کے قواعد میں عمرہ سیونگ اسکیم اور مذہبی زیارات سیونگ اسکیم کی گنجائش بھی رکھی جائے گی، جس سے سال بھر مقدس مقامات کے سفر کا ارادہ رکھنے والے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ منصوبہ وزارت مذہبی امور، وزارت خزانہ اور مرکزی قومی بچت کے اشتراک سے مکمل ڈیجیٹل نظام پر چلے گا، جس سے شفافیت بڑھے گی اور عوام کو کاغذی کارروائی اور قطاروں سے نجات ملے گی۔

فی الحال اسکیم کے طریقہ کار، اہلیت، مدت اور ڈیجیٹل سہولیات کی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں جو مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی، لہٰذا عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی غیر مصدقہ اطلاع پر یقین نہ کریں اور سرکاری اعلان کا انتظار کریں۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے اور اس کے تمام قواعد و ضوابط دو ماہ بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: سرکاری حج اسکیم: دوسری قسط کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا