ایک ہی کام بار بار کرنا، کیااو سی ڈی بیماری ہے؟حقیقت جانیے

اسلام آباد : بعض افراد دروازہ بند کرنے، گیس بند کرنے یا ہاتھ دھونے جیسے کام ایک بار کرنے کے باوجود انہیں بار بار دہراتے ہیں۔ جب یہ رویہ بے قابو ہو جائے، شدید ذہنی دباؤ پیدا کرے اور انسان کی روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو یہ آبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر (OCD) کی واضح علامت ہو سکتا ہے۔

او سی ڈی بنیادی طور پر ایک ذہنی صحت کی کیفیت ہے جس میں انسان کو بار بار آنے والے غیر مطلوب اور پریشان کن خیالات، خواہشات یا خدشات کا سامنا ہوتا ہے، جنہیں اوبسیشن کہا جاتا ہے۔ ان خیالات سے پیدا ہونے والی بے چینی کو کم کرنے کے لیے متاثرہ فرد بعض کام یا ذہنی سرگرمیاں بار بار دہرانے پر مجبور محسوس کرتا ہے، جنہیں کمپلژن کہا جاتا ہے۔

او سی ڈی کی علامات اور دہرائے جانے والے افعال:

مثال کے طور پر جراثیم سے آلودگی کا خوف کسی شخص کو بار بار ہاتھ دھونے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اسی طرح یہ خدشہ کہ دروازہ لاک نہیں ہوا، کسی شخص کو بار بار دروازہ چیک کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جبکہ کچھ افراد چیزوں کو مخصوص ترتیب میں رکھنے، گنتی کرنے یا ذہن میں الفاظ دہرانے جیسی حرکات بھی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرصحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی سماہنی پہنچ گئے، ٹی ایچ کیوماڈل ہسپتال بنانے کا اعلان

ماہرینِ نفسیات و صحت کے مطابق بار بار کیا جانے والا یہ عمل عارضی طور پر بے چینی کو تو کم کر دیتا ہے، لیکن کچھ ہی دیر بعد وہی خیال اور اضطراب دوبارہ لوٹ آتا ہے، جس سے ایک مسلسل چکر بن جاتا ہے جو انسان کو گھیرے رکھتا ہے۔

عام عادات اور او سی ڈی میں فرق:

یہاں یہ بات واضح کرنا بھی انتہائی اہم ہے کہ ہر شخص کا کبھی کبھار چیزیں دوبارہ چیک کرنا یا صفائی کرنا او سی ڈی نہیں ہوتا۔ اس بیماری اور عام عادات میں واضح فرق موجود ہے۔

او سی ڈی میں خیالات یا عادات اتنی شدید اور وقت طلب ہو سکتی ہیں کہ انسان کی روزمرہ زندگی، کام کاج یا باہمی تعلقات بری طرح متاثر ہونے لگتے ہیں اور فرد شدید ذہنی کرب سے گزرتا ہے۔

علاج کے طریقے اور ماہرین کا مشورہ:

او سی ڈی ذہنی صحت کی ایک قابلِ علاج کیفیت ہے۔ اس کے علاج کے لیے عموماً کگنیٹیو بیہیویرل تھراپی (CBT) اور بعض مخصوص صورتوں میں ادویات استعمال کی جاتی ہیں جس سے مریض کی حالت میں بہتری آتی ہے۔

اگر اس طرح کے بار بار آنے والے خیالات یا عادات کسی بھی شخص کے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر رہے ہوں تو اسے بلا تاخیر ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ بروقت رہنمائی اور علاج ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے سود سے پاک ‘حج سیونگ پلان’ متعارف کرانے کی تیاریاں مکمل