کورٹ کے 21سال مکمل، پروقار تقریب،سابق ایڈوائزر امریکی صدر ساجد تارڑ کی خصوصی شرکت

میرپور (کشمیر ڈیجیٹل) کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر جاتلاں روڈ پر واقع کورٹ کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب  میں 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ادارے کی دو دہائیوں پر محیط رفاہی، تعلیمی اور انسان دوست خدمات کو سراہا گیا۔

تقریب میں یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت، تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کا خودمختار اور باوقار شہری بنانے کے لیے KORT کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ، معروف امریکی کمیونٹی رہنما اور امریکہ میں KORT کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ تھے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان، معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ اور ان کے ساتھیوں نے بھی امریکہ سے خصوصی طور پر شرکت کی۔

بانی و منتظم اعلیٰ کورٹ چوہدری محمد اختر،مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ میں کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (کورٹ) کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ، نیویارک میں اقوامِ متحدہکیلئے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان، سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس (ر) اعظم خان، کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ فیاض حیدر نوابی، ڈپٹی کمشنر میرپور سید عمران عباس نقوی، ایس ایس پی میرپور خرم اقبال، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور راجہ محمد زبیر خان اور نجم الحسن جاوید ایڈووکیٹ، کمانڈنگ آفیسر ایس سی او، سابق صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اعظم خان کے صاحبزادے، معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ، چوہدری محمود پلاکوی ایڈووکیٹ، اوورسیز رہنما چوہدری محمد یونس، ملک امانت اعوان اور جاوید نجم الثاقب ایڈووکیٹ سمیت کونسلرز، بلدیاتی نمائندگان، سماجی کارکنان، سینئر صحافیوں، مخیر حضرات، رضاکاروں، اساتذہ، کورٹ کے طلبا و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد بھی تقریب میں شریک ہوئی۔

تقریب میں کورٹ کے بچوں نے متعدد رنگا رنگ اور سبق آموز پروگرام پیش کئے جن میں انسانیت کی خدمت، بنیادی تعلیم کی اہمیت، صحت کی سہولیات، بنیادی انسانی حقوق، مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔

بچوں نے دلکش ٹیبلو، خوبصورت لوک گیتوں، ثقافتی پرفارمنس اور دیگر دلچسپ سرگرمیوں کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور و آگاہی کا پیغام بھی دیا۔ مختلف پروگراموں میں کشمیری ثقافت و روایات، مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھی نمایاں کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: چارسینئرافسران کو ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر ترقی مل گئی

بچوں کی پُراعتماد اور شاندار کارکردگی کو شرکاء نے سراہا اور ان کی صلاحیتوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منتظم اعلی چوہدری محمد اختر نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا قیامت خیز دن آج بھی ان کے قلب و ذہن پر نقش ہے، جب آباد گھر اجڑ گئے، ماؤں کی گودیں ویران ہوئیں، خاندان بکھر گئے اور بے شمار معصوم بچے والدین کی شفقت سے محروم ہوگئے۔

کورٹ کا سفر کسی ذاتی مفاد یا تشہیر کے لیے نہیں بلکہ دردِ دل، احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے شروع کیا تھا۔ اس وقت بنیادی عزم یہ تھا کہ زلزلے کے نتیجے میں یتیم ہونے والے بچوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ انہیں تعلیم، تربیت، محبت اور باوقار مستقبل فراہم کیا جائے گا۔

چوہدری محمد اختر نے کہا کہ آج کورٹ کے بچوں کو تعلیم حاصل کرتے، زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھتے اور اپنے قدموں پر کھڑا ہوتے دیکھ کر دل بارگاہِ ربِ ذوالجلال میں شکرگزاری سے لبریز ہوجاتا ہے، تاہم ان بچوں کی ابتدائی محرومیوں اور سانحۂ زلزلہ کی یادیں آج بھی آنکھیں نم کر دیتی ہیں۔

انہوں نے  کورٹ کے ساتھ تعاون کرنے والے اہلِ خیر، مخیر حضرات، رضاکاروں، کارکنان، اساتذہ اور بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانی و کشمیری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاروانِ خدمت کسی ایک فرد کی کاوش نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی احساس، اخوت اور ایثار کا مظہر ہے۔

خطاب کے دوران تقریب میں موجود شرکاء بھی جذباتی ہوگئے، چوہدری محمد اختر نے اپنے خطاب میں  کورٹ کے زیرِ اہتمام جاتلاں میں زیرِ تعمیر جدید ہسپتال کے منصوبے کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً ساڑھے 12 ارب روپے کی خطیر رقم صرف کی جائے گی، یہ منصوبہ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے، محروم اور نادار طبقات کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے اور خطے کے غریب عوام کیلئے امید کی نئی کرن روشن کرنے کی عملی کاوش ہے۔

ہسپتال کا مقصد مستحق افراد کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں مدد دینا ہے تاکہ وسائل کی کمی کے باعث کسی ضرورت مند کو علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

صحت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے اور کسی غریب کی بے بسی اس کے علاج میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔

چوہدری محمد اختر نے کہا کہ کورٹ کا مقصد صرف یتیم بچوں کی کفالت تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ان طبقات تک پہنچنا بھی ہے جو وسائل کی کمی کے باعث بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ادارے کے منصوبے خدمتِ خلق کو محض الفاظ اور نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے دیرپا اقدامات کے ذریعے انسانیت کی خدمت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کورٹ آئندہ بھی خدمتِ انسانیت کا سفر پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھے گا اور جہاں کوئی مجبور، بے کس، یتیم یا نادار انسان مدد کا منتظر ہوگا، وہاں دستِ تعاون دراز کرنا اپنی سعادت سمجھے گا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی ساجد تارڑ نے اپنے خطاب میں KORT کی 21 سالہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے نے کشمیر کے لوگوں کو ناقابلِ فراموش صدمے سے دوچار کیا

تاہم اس سانحے کے بعد خدمت، اخوت اور ایثار کے جذبے نے بھی جنم لیا، جس نے بے شمار یتیم بچوں کی زندگیوں میں امید کی کرن پیدا کی۔

کورٹ نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یتیم اور مستحق بچوں کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ محض امداد نہیں بلکہ نسلوں کی تعمیر اور مستقبل کی تشکیل کا عمل ہے۔ کسی یتیم بچے کو تعلیم، تربیت اور عزتِ نفس کے ساتھ معاشرے کا باوقار فرد بنانے میں مدد دینا ایک عظیم انسانی خدمت ہے۔

ساجد تارڑ نے امریکہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی کی جانب سے کورٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم اہلِ خیر یتیم بچوں کی کفالت اور ان کے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  کورٹ نے سمندر پار پاکستانیوں اور کشمیریوں کو بھی خدمتِ انسانیت کے اس عظیم کارواں سے جوڑا ہے، جو جغرافیائی حدود سے بالاتر ہوکر انسانیت کی خدمت کا عملی مظہر ہے۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک سانحہ ہے، جس نے چند لمحوں میں ہزاروں خاندانوں کو اجاڑ دیا۔

آباد بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، والدین اپنے بچوں سے اور بچے اپنے والدین سے جدا ہوگئے، جبکہ لاتعداد معصوم بچے شفقتِ پدری اور آغوشِ مادری سے محروم ہوگئے۔ ایسے کربناک حالات میں کورٹ  کا قیام یتیم بچوں کو سہارا دینے، ان کی تعلیم و تربیت اور بہترین مستقبل کی تعمیر کے عزم کی عملی صورت تھا۔

انہوں نے کہا کہ  کورٹ نے اپنی خدمات کو وقتی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے یتیم اور مستحق بچوں کی مستقل کفالت، تعلیم، صحت، رہائش اور تربیت کو اپنا نصب العین بنایا۔

گزشتہ 21 برس کے دوران ادارے نے عزم، اخلاص، ایثار اور استقامت کے ساتھ خدمتِ خلق کا سفر جاری رکھا ہے۔ ادارے کی کوششوں کا مقصد بچوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے ساتھ تعلیم، شعور، خود اعتمادی اور خود انحصاری کے مواقع دینا ہے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے مفید اور باوقار شہری بن سکیں۔

دیگر مقررین نے کہا کہ کورٹ کی 21 سالہ جدوجہد اس امر کی عکاس ہے کہ خلوصِ نیت، عزم اور اجتماعی تعاون سے محروم بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

ادارے نے بچوں کو چھت، کھانا اور لباس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں علم، شعور، اعتماد اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کی ہے۔

تقریب کے اختتام پر سانحۂ زلزلہ 2005 کے شہداء کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی اور مغفرت کیلئے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں اور  کورٹ کے زیرِ کفالت بچوں کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خدمتِ خلق، کفالتِ ایتام اور دکھی انسانیت کی دستگیری کا یہ سفر آئندہ بھی اخلاص، ایثار اور باہمی تعاون کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔