وادی لیپہ میں 3 خوفناک آتشزدگیاں،تاجرحکومتی امداد کے منتظر:شوکت جاوید میر

 ہٹیاں بالا،وادی لیپہ (کشمیر ڈیجیٹل) وادی لیپہ میں پے در پے خوفناک آتشزدگی کے تینوں سانحات میں کپہ گلی بازار، نوکوٹ ملاں چوک،خیراتی باغ تاجروں اور مالکان کے کروڑوں روپے کے نقصانات اور قیمتی عمارات کے جل کر راکھ کا ڈھیر ہونے کے باوجود حکومتی بے حسی پر عوام علاقہ کا شدید احتجاج ،وزیراعظم پاکستان شہباز شریف وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی سے متاثرین کیلئے امدادی پیکج دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے ۔ 

  پاک فوج کی بروقت امدادی کارروائیوں اور مالی معاونت پر چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ سید عاصم منیر جنرل کمانڈنگ آفیسر چنار ڈویژن میجر جنرل ضرار محمود کمانڈر لیپہ گارڈز برگیڈیئر عامر فرید خان اور برگیڈیئر ریحان مقامی یونٹس کے کمانڈنگ آفیسران کے انسانی اسلامی کردار کو شاندار الفاظ میں سراہا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم افتخار گیلانی کو پارٹی کے اندر سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے:شوکت جاوید میر

 وزیراعظم افتخار گیلانی اگر بھمبر اور کوٹلی کا دورہ کر سکتے ہیں تو لائن آف کنٹرول پر بھارتی قابض افواج کی گولہ باری جیسے مظالم برداشت کر کے نظریئہ استحکام پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہونے والے عوام کو دونوں حکومتوں نے کیوں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے ؟ ۔

گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سابق ٹکٹ ہولڈر حلقہ سات لیپہ ویلی و ترجمان حکومت شوکت جاوید میر نے پارٹی عہدیداروں کارکنوں کے ہمراہ نوکوٹ آتشزدگی سے تباہ حال جگہ کا دورہ کیا متاثرہ تاجروں اور مکان مالکان کے علاوہ معززین علاقہ سے ملاقات کی، ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ آتشزدگی کے بھڑکنے والے شعلے بجھانے میں نوکوٹ کے بزرگوں، نوجوانوں کا جذبہ احساس  اور میڈیا کے کردار کو سراہا  ۔

ممبر ضلع کونسل بشیر عالم اعوان، صدر پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل لیپہ خواجہ فاروق احمد، ممبران لوکل کونسل صدیق احمد شیخ، اظہر میر، صدر یونین کونسل سردار محمد عارف مغل، اسد نذیر میر فرید اعوان، خواجہ مقبول احمد، احسان عالم اعوان، تیمور میر فیضی قریشی، ملک احتشام، سمیت کثیر تعداد میں کارکن ان کے ہمراہ تھے ۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ترجمان حکومت شوکت جاوید میر نے کہا کہ کیپہ گلی بازار آتشزدگی میں پچاس کے لگ بھگ تاجروں اور دوکانات خیراتی مکان مالکان ملاں چوک نوکوٹ کے متاثرین کو لگائے جانے والے تخمینہ کے مطابق پورے پورے معاوضہ جات کی یکمشت ادائیگی کی جائے۔

 حکومت کشمیر بینک سے دس سے پچاس لاکھ تک بلا سود قرضوں کی اجرائیگی آسان شرائط پر کرنے جستی چادریں تعمیراتی میٹریل اور لکڑی فراہم کرے ریسکیو ون ون ٹو ٹو کی ناقص ترین کارکردگی کی باز پرس نہ کی گئی تو ساری ذمدادی ا ن کے اعلیٰ حکام پر عائد ہو گی۔

 انھوں نے کہا سابق وزیر تعلیم ممبر قانون ساز اسمبلی حلقہ سات دیوان علی خان چغتائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے اسلام آباد مصروف تھے تاہم انہوں نے وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی سمیت متعلقہ فورمز پر مثاترین کے حقوق کی جاندار نمائندگی کا فریضہ انجام دیا ہے۔

 حکومت نے متاثرین کی آباد کاری اور تعمیر نو کیلئے تجاویز کو نظر انداز کیا تو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی دیوان علی خان چغتائی تحریک التواء بھی پیش کریں گے جن کے ساتھ سابق وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پوری پارلیمانی پارٹی اس وقت تک واک آؤٹ (احتجاج)جاری رکھے گی جب تک لیپہ ویلی آتشزدگی کے متاثرہ خاندانوں تاجروں کے نقصانات کا ازالہ نہیں ہوتا ۔

ایک سوال کے جواب میں شوکت جاوید میر نے کہا کیپہ گلی بازار میں جامع مسجد شریف بھی شھید ہوئی اسکی تعمیر کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں کپہ گلی بازار کے ساتھ اخروٹ سیب کے پھلدار درختوں کا معاوضہ نہیں دیا جا رہا جو نا انصافی ہے۔

 انھوں نے کہا کہ نوکوٹ ملاں چوک کے تاجروں کی جمع پونجی خاکستر ہونے پر کسی حکومتی شخصیت کا دورہ نہ کرنا اور کپہ گلی بازار آتشزدگی کے متاثرہ تاجروں سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو شدید عوامی مزاحمت ابھرے گی ۔

حلقہ سات لیپہ ویلی سے دو مرتبہ کامیاب ہو کر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد اہم وزارتیں حاصل کرنے اور حالیہ انتخابات میں بیس ہزار سے زائد ووٹ لینے والے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری رشید کی خاموشی مکمل لا تعلقی اور نوکوٹ کے دورہ نہ کرنا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مکہ معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی بڑی سفارتی کامیابی ہے: شوکت جاوید میر

سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی عدم دلچسپی نے بڑے تلخ سوالات اٹھا دئیے ہیں اس لیے کہ راجہ محمد فاروق حیدر خان کو بھی نوکوٹ کے عوام نے بحثیت امیدوار اسمبلی حلقہ سات اچھے خاصے ووٹ دئیے تھے جس کے بعد وہ لیپہ ویلی کو بھول چکے ہیں۔