مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) پیپلز پارٹی رہنما شوکت جاوید میر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کا سیاسی نظام بہتری کی طرف گامزن ہے لیکن وزیراعظم افتخار گیلانی کو پارٹی کے اندر سے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کی مالا ہے۔
وزیراعظم آزادکشمیر کو اپنے نام کے ساتھ سے لفظ سید کو نہیں ہٹانا چائیے تھا ۔ کسی بھی خاتون کو وزیر بنا دیا جاتا تو یہ بہت بہتر تھا۔ ان خیالات کا اظہار سیاسی رہنما شوکت جاوید میر نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام ’’چٹ چیٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: آئی جی پی آزاد کشمیر سے شوکت جاوید میر اور سید اعجاز کاظمی کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
انہوں نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کیلئے سیاسی طور پر کئی چیلنجز موجود ہیں۔
ان کے مطابق وزیراعظم کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی پارٹی کے اندر بھی مختلف معاملات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کیلئے سیاسی تدبر اور مشاورت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کے نام کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ وزیراعظم کو اپنے نام کے ساتھ لفظ ’’سید‘‘ برقرار رکھنا چاہیے تھا۔
ان کے بقول اس حوالے سے کیا گیا فیصلہ سیاسی اور سماجی سطح پر گفتگو کا موضوع بن سکتا ہے۔شوکت جاوید میر نے کابینہ میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کابینہ میں کسی خاتون کو وزیر بنایا جاتا تو یہ ایک بہتر اقدام ہوتا۔ حکومت میں خواتین کی نمائندگی سے سیاسی عمل میں شمولیت اور نمائندگی کے مختلف پہلوؤں کو تقویت مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنا جتنا اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ اہم اقتدار کو سیاسی حکمت عملی، عوامی توقعات اور حکومتی ذمہ داریوں کے مطابق چلانا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مکہ معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی بڑی سفارتی کامیابی ہے: شوکت جاوید میر
وزیراعظم آزاد کشمیر کو موجودہ سیاسی حالات میں مختلف طبقات، سیاسی ساتھیوں اور پارٹی کے اندر موجود تحفظات کو بھی سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے۔




