مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر خان کا 8 اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے کی برسی کے موقع پر ویڈیو پیغام جاری۔
فاروق حیدر نے کہا کہ آج ہی کے دن قیامت خیز زلزلہ آیا تھا جس میں آزادکشمیر میں 45 ہزار مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شہید ہوئے تھے۔ یہ زخم آج بھی ہمارے سینوں میں تازہ ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کیلئے دائر درخواست سماعت کیلئے منظور
انہوں نے کہا کہ میں آزادکشمیر کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ اس بڑے سانحے کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے۔ زلزلے کے بعد پاکستانی عوام نے جس محبت اور بھائی چارے کا ثبوت دیا وہ ناقابل فراموش ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سردار سکندر حیات خان وزیراعظم تھے، لوگوں کا جذبہ دیکھ کر یقین نہیں آ رہا تھا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں سے اتنی محبت کرتے ہیں۔
سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ میں اپنے لوگوں سے کہتا ہوں کہ افراد یا حکومتوں سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مملکت پاکستان سے اختلاف نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری منزل پاکستان ہے، ہندوستان نہیں،سابق صدر جنرل پرویز مشرف مرحوم اور سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات مرحوم کو خراج عقیدت پیش۔
انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے زلزلے کے بعد جس طرح بین الاقوامی دنیا سے اور ملک کے اندر سے مدد اکٹھی کی، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انجمن تاجران بلوچ کا کالعدم ایکشن کمیٹی کی کال سے لاتعلقی کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے جس طرح مدد کی اسلام آباد کی بیکریاں خالی ہو گئیں، بچوں نے اپنی گھڑیاں اور جیب خرچ تک دے دیا، اس محبت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مظفرآباد شہر ہمیشہ زندہ رہے گا، قیامت تک آباد رہے گا، یہاں کے لوگوں نے بڑی ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بھائی آج بھی بھارتی ظلم کا شکار ہیں۔
میری خواہش اور اپیل ہے کہ تمام داخلی معاملات کو افہام و تفہیم اور مذاکرات سے حل کیا جائے تاکہ جن مسائل کو آج بھارت اچھال رہا ہے، ان کا خاتمہ ہو سکے اور ریاست میں امن و امان بحال ہو۔۔




