سرینگر(کشمیر ڈیجیٹل) جنرل سیکرٹری جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی ڈاکٹر غلام رسول نے پارٹی چیئرمین شبیر احمد شاہ کی ضمانت مسترد کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ شبیر احمد شاہ کی ضمانت مسترد کرنے کافیصلہ بھارتی عدالتی نظام کے گہرے بحران اور ناانصافی کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی عدالتی نظام انصاف اور جمہوریت کے لیے ایک داغ بن چکا ہے۔ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ شبیر احمد شاہ گزشتہ تقریباً چالیس برس سے بھارتی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
74 سالہ شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت اور بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال منتقل کرنے اور ضروری طبی معائنے، بشمول ایم آر آئی کرانے کا مشورہ دیا مگر بھارتی حکام انہیں مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجودہیں، ترجمان پاک فوج
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو، جو کئی دہائیوں سے قید ہے اور اس وقت سنگین صحت کے مسائل سے دوچار ہے، بنیادی انسانی اور طبی سہولیات سے محروم رکھنا انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ڈاکٹر غلام رسول نے عالمی برادری، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں اور دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت اور آزادی کی جدوجہد سے وابستہ قیدی رہنماؤں کی حالتِ زار کا فوری نوٹس لیں۔
بھارتی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے حالات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں اور بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ انہیں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرے۔
انہوں نے بالخصوص شبیر احمد شاہ کی بگڑتی ہوئی صحت کا فوری نوٹس لینے اور انہیں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں مناسب علاج، ضروری طبی معائنے اور اسپتال کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر غلام رسول نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی ان قیدیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ انسانی حقوق عالمگیر اصول ہیں اور ان کا اطلاق سیاسی وابستگی یا جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر ہر انسان پر یکساں ہونا چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی قیدیوں کی طویل حراست کا مؤثر نوٹس لے ۔۔
بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے کشمیری سیاسی قیدیوں کے حقوق کا احترام کرے۔




