کالعدم ایکشن کمیٹی کی لاک ڈاؤن کی کال مسترد، آزاد کشمیر بھر میں معمولاتِ زندگی بحال

 کالعدم تنظیم ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی لاک ڈاؤن کی کال آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژنز میں مکمل طور پر بے اثر ثابت ہوئی ہے۔ مظفرآباد، میرپور اور پونچھ ڈویژنز کے مختلف اضلاع میں زندگی کے معمولات مکمل طور پر بحال اور جاری ہیں۔ 

مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، بھمبر، باغ، راولاکوٹ، حویلی، نیلم اور جہلم ویلی سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بازار، دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں بھی حسبِ معمول جاری رہیں۔

ٹرانسپورٹ کی روانی اور سفر کی صورتحال:

بین الصوبائی، بین الاضلاعی اور لوکل ٹرانسپورٹ سروس بھی مکمل طور پر معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ مختلف روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ، مسافر گاڑیوں، ویگنوں اور دیگر ذرائع آمدورفت کی سروس بلا تعطل جاری ہے، اور مسافر اپنی منزلوں کی جانب معمول کے مطابق سفر کر رہے ہیں۔ اہم شاہراہوں، رابطہ سڑکوں اور شہری علاقوں میں ٹریفک بھی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

مظفرآباد سے راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کے لیے بین الصوبائی ٹرانسپورٹ جبکہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کے درمیان بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بھی بالکل معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ اڈوں پر بھی معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں اور شہری اپنے روزمرہ امور، کاروبار، ملازمت، تعلیم اور دیگر ضروری کاموں کے لیے آزادانہ آمدورفت کر رہے ہیں۔

عوامی شخصیات اور تاجر برادری کے بیانات:

لاک ڈاؤن کی کال کے باوجود بازاروں میں خریدوفروخت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، دکاندار اپنے کاروبار میں مصروف ہیں اور شہری اپنی روزمرہ ضروریات کی خریداری کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ معروف قانون دان سید شجاعت علی گیلانی ایڈووکیٹ نے اپنے ویڈیو بیان میں لاک ڈاؤن کی کال کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے ان عناصر کے عزائم کو بخوبی بھانپ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس سے آزاد کشمیر میں امن، کاروبار اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوں۔ سید شجاعت علی گیلانی نے اپنے بیان میں ایکشن کمیٹی اور ملک کی سیاسی صورتحال سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کال مسترد ،زندگی رواں دواں

شہری راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ عام آدمی پہلے ہی روزمرہ کی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں بازار اور ٹرانسپورٹ بند ہونے سے براہِ راست نقصان عوام اور کاروباری طبقے کو پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے کا اظہار ضرور ہونا چاہیے، تاہم عام شہری کی زندگی اور روزگار کو متاثر کرنے والے اقدامات سے گریز انتہائی ضروری ہے۔ تاجر خالد محمود زیدی نے کہا کہ کاروباری مراکز کھلے رکھنا تاجروں اور مزدور طبقے کی معاشی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دکاندار، مزدور، ٹرانسپورٹر اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار روزانہ کی بنیاد پر کاروباری سرگرمیوں سے جڑا ہے، اس لیے کاروبار کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو ہوتا ہے۔ خالد محمود زیدی نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کو ترجیح دینے پر زور دیا۔

احتجاجی کال کے دو دن اور زمینی حقائق:

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختلافات اور مطالبات کے اظہار کے لیے احتجاج ہر ایک کا جمہوری حق ہے، تاہم احتجاج کا ایسا طریقہ ہرگز اختیار نہیں ہونا چاہیے جس سے عام شہری کے کاروبار، روزگار، علاج، تعلیم اور آمدورفت میں مشکلات پیدا ہوں۔ شہریوں کے مطابق حکومت اور متعلقہ فریقین کو بھی کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کو دو روز گزر چکے ہیں، تاہم آج 6 اکتوبر بروز منگل بھی آزاد کشمیر کی مختلف وادیوں اور شہروں میں اس احتجاجی کال کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیا۔ کوٹلی، بھمبر، میرپور، باغ، حویلی، نیلم، جہلم ویلی سمیت دیگر تمام علاقوں میں بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھلے رہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں حسبِ معمول جاری رہیں۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی : مسلح جتھے کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ، عینی شاہدین کے اہم دعوے سامنے آگئے