کالعدم ایکشن کمیٹی : مسلح جتھے کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا معاملہ، عینی شاہدین کے اہم دعوے سامنے آگئے

ڈڈیال: خواجہ مہران کا رائٹ ہینڈ کہلانے والا سردار منیر عرف سائیں منیر راولاکوٹ سے ڈڈیال آ کر دھانگلی کے مقام پر مسلح جتھے کے ہمراہ مبینہ طور پر علاقے کا پرامن ماحول خراب کر رہا تھا۔ 

مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق عثمان نامی نوجوان، جو دھانگلی کے مقام پر پولیس کے ہمراہ روڈ سے پتھر ہٹا رہا تھا، جس کو اسی دوران سردار منیر اور اس کے ساتھیوں نے شدید اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کیا۔ اس سنگین واقعے کے بہت سے مقامی عینی شاہدین موجود ہیں، اور وقت آنے پر تمام حقائق کھل کر سامنے لائے جائیں گے۔

پولیس کی حکمت عملی اور فائرنگ کے الزامات:

مختلف ویڈیوز میں سنی جانے والی فائرنگ کی آوازوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ نام نہاد ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھے کی جانب سے پولیس پر کی جانے والی فائرنگ کی آوازیں ہیں۔ پولیس نے بہترین حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو بار دھانگلی تک روڈ کو مکمل طور پر کھلوایا، تاہم مسلح جتھے کی طرف سے شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پولیس بھی جوابی فائرنگ کرتی تو اس دوران کئی بے گناہ افراد گولیاں لگنے سے نشانہ بن سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 4 اکتوبر احتجاج: روڈ بلاک کے دوران فائرنگ، عثمان کے سینے پر گولی لگنے کا ویڈیو بیان سامنے آگیا

عثمان شہید کی آخری تصاویر اور قیادت کا کردار:

 تفصیلات کے مطابق، عثمان شہید کو ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھے کی طرف سے گولی لگنے سے قبل کی تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پُرامن انداز میں سڑک سے پتھر اٹھا رہا تھا۔ اسی موقع پر سائیں منیر اور کونسلر نعیم کی قیادت میں  کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھے نے شدید فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔