مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل)سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کی کامیابی میری اور جماعت کی کامیابی ہے۔
شاہ غلام قادر،چوہدری طارق فاروق و دیگر کیساتھ ملکر ہم نے آزادکشمیر میں ن لیگ بنائی اس کی حکومت ہماری اپنی حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے حالات کو معمول پر لانے عوام کا اعتماد بحال کرنے اور نظریاتی ، معاشرتی، سیاسی سطح پر ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے کیلئے ہم سب کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم افتخار گیلانی کو کہا ہے کہ رولز آف بزنس میں دیئے گئے اختیارات استعمال کریں،موثر انتظامی کنٹرول یقینی بنائیں اور 2021میں جو سفر جہاں سے رکا تھا وہیں سے دوبارہ آغاز کریں۔
انہوں نے کہا کہ شاہ غلام قادر میرے دیرینہ ثابت قدم ساتھی رہے، وہ جماعت کا اجلاس بلائیں، وزیراعظم آزادکشمیر جماعت سے مشاورت یقینی بنائیں، اور تسلسل سے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد کریں۔
انہوں نے کہا کہ سپیکر اسمبلی طارق فاروق انتہائی زیرک اور کہنہ مشق شخصیت ہیں ان کی موجودگی اسمبلی کے بزنس مین بہتری لاے گی۔

راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ نظام کے استحکام کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا، تیرہویں ترمیم سے آزادکشمیر کو حاصل ہونے والے مالیاتی انتظامی اختیارات کی واپسی کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مزاحمت کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ کوئی اور بات کرے یا نہ کرے میں اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کروں گا۔
راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دھرنوں کی وجہ سے خرابی ہوئی، آج تک قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔
موجودہ دھرنے کے نتائج بھی ہمیں بھگتنے پڑیں گے، نظام کو بچانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے والے اپنے ہاتھ سے اپنا گلہ کاٹ رہے ہیں، سری نگر کے ساتھ جذباتی رشتہ ہے، تحریک آزادی کشمیر اور تکمیل پاکستان کا مشن زندگی کا مقصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی وحدت کی بحالی کا مطالبہ ان کی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔
فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر نامزدگی کے طریقہ کار پر اختلاف تھا، افتخار گیلانی میرے عزیز ہیں، بیٹوں کی طرح ان کیلئے جھولی پھیلا کر ووٹ مانگے، وزیراعظم کی کامیابی کیلئے دعا گو ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور را آزادکشمیر میں بدامنی پیدا کرنے کے منصوبے پر عرصہ دراز سے کام کررہی ہیں، ہمیں ان سازشوں کو مدنظر رکھنا چاہیے، اس حوالے سے ہمیں چوکنا رہتے ہوئے اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا جنرل کہتا ہے جو کچھ نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر ہو رہا ہے اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے تو جب اُس سے رپورٹر سوال پوچھتی ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں جس پر ہندوستانی جنرل کہتا ہے کہ ہم پی او کے (آزادکشمیر)میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہمیں ہندوستان کو راستہ نہیں دیتا بلکہ راستے بند کرنے ہیں، میں کسی اختلاف رائے رکھنے والے کو ایجنٹ نہیں سمجھتا
لیکن یہ بھی کہتا ہوں کہ آزادکشمیر کی طویل پٹی لائن آف کنٹرول سے منسلک ہیں، جہاں ہندوستان اپنی تمام تر مادی، حربی وسائل کے ساتھ موجود ہے، اور یہ حالات ہم سے ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیرکے حالات کو معمول پر لانے اور نظریاتی، معاشرتی، سیاسی سطح پر ہونے والی خرابی کو درست کرنے کیلئے ہم سب کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ ریاست نے ہمیں بہت کچھ دیا، ہم نے ریاست کو کیا دیا؟۔
ایک سوال کے جواب میں فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ وہ مفکرین اور دیگر ممتاز شخصیات پر مشتمل ایک فورم قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں
تاکہ ریاست کو درپیش مسائل پر سنجیدہ اور بامقصد بحث کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور ان کے عملی حل تلاش کئے جا سکیں۔اس حوالے سے ابھی مشاورت کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ اس ریاست نے ہمیں ایک مقام اور شناخت دی ہے۔ اگر میں اپنی بات کروں تو میں وزارتی عہدوں، وزیراعظم کے باوقار عہدے اور قائد حزب اختلاف کے عہدے سمیت دیگر سیاسی عہدوں پر فائز رہا ہوں۔
میرا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم جس طرح بھی ممکن ہو اپنی ریاست کو کچھ واپس دیں۔
راجہ فاروق حیدر نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں پونچھ اور سدھنوتی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات جن میں سابق سینئر سول اور فوجی افسران، ماہرین تعلیم اور آزاد خیال دانشور شامل ہیں کا اجلاس بلایا گیا تھا۔
اسلام آباد میں کشمیر ہاؤس میں مدعو کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ دونوں اضلاع میں موجودہ صورتحال پر غور کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کے طریقے تلاش کئے جا سکیں۔
تاہم، اسلام آباد میں بعض سیاسی گروپوں کی جانب سے لانگ مارچ کی دھمکیوں کے باعث پیدا ہونے والی غیر مستحکم سیاسی صورتحال نے انہیں اس منصوبے پر عملدرآمد سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جن پر ریاست بجا طور پر فخر کر سکتی ہے۔ انہوں نے ملک میں اعلیٰ ترین عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں اور اپنے لئے اور اپنے وطن کیلئے عزت و وقار کمایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ صورتحال نے پورے علاقے کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا کر دیا ہے، جو کہ سراسر غیر منصفانہ اور غلط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پونچھ کی ممتاز شخصیات ایک مقررہ جگہ پر اکٹھی بیٹھیں، صورتحال پر آزادانہ طور پر تبادلہ خیال کریں اور تجویز کریں کہ پورے ڈویژن میں امن و امان اور معمولات کی بحالی کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے نومنتخب صدر ڈاکٹر نجیب نقی اور وزیراعظم افتخار گیلانی پر بھی زور دیا ہے کہ وہ کمیٹی کے نمائندوں سے بات چیت کریں، ان کے مطالبات سنیں اور ان کی شکایات کے پیچھے وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے مظاہرین کو اپنا انتباہ دہراتے ہوئے کہا کہ بلاوجہ محاذ آرائی اور مسلسل ہٹ دھرمی ریاست کے وسیع تر ادارہ جاتی اور آئینی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظام کے اندر اختلافات اور شکایات کو مکالمے اور اصلاحی اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، پورے نظام کو ختم کرنے کی کوشش کر کے نہیں۔ اگر گھر کے ایک حصے میں کوئی مسئلہ ہے تو اس کا حل اس حصے کی مرمت کرنا ہے، نہ کہ پورا گھر گرا دینا۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ یہی اصول ریاست کے اداروں اور طرز حکمرانی پر بھی لاگو ہوتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ پورے نظام کو خطرے میں ڈالے بغیر مسائل کو درست کیا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم گیلانی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عوام اور حکومت چلانے کی ذمہ داری سونپنے والوں دونوں کی توقعات پر پورا اترنےکیلئے موثر انتظامی کنٹرول قائم کریں اور طرز حکمرانی کو بہتر بنائیں۔




