وادی لیپہ (کشمیر ڈیجیٹل): تاجر رہنما شاہنواز اعوان نے کہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے احتجاج سے ریاست اور عوام کو فائدے کے بجائے نقصان اٹھانا پڑا ۔۔
انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے حصول کیلئے شروع ہونے والی تحریک کے حوالے سے عوام میں پہلے جیسا اعتماد برقرار نہیں رہا۔
کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے شاہنواز اعوان نے کہا کہ جب عوامی حقوق اور بنیادی مسائل کی بات کی گئی تو آزاد کشمیر کے عوام کی بڑی تعداد نے ایکشن کمیٹی کا ساتھ دیا اور ان کے مطالبات کی حمایت کی
مزید یہ بھی پڑھیں:کلری کو سب ڈویژن کا درجہ مل گیا،وزیراعظم کا بھمبر کیلئے جامع پلان کا اعلان
شاہنواز اعوان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ایکشن کمیٹی میں موجود بعض عناصر نے اپنا ایجنڈا تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں عوام نے ان سے لاتعلقی اختیار کرنا شروع کردی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو بھی اہمیت دیتے ہیں اور ان کے مطابق کشمیری عوام پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف کسی بھی بیانیے کو قبول نہیں کریں گے۔
شاہنواز اعوان نے احتجاجی دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ سلسلہ گزشتہ چار ماہ سے جاری ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی اور ریاستی و عوامی معاملات متاثر ہوئے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا ڈی ایچ کیوہسپتال بھمبر کیلئے 100بیڈز ،اینجیوگرافی مشین دینے کا اعلان
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دھرنے کے منتظمین کو بیرونی فنڈنگ حاصل ہو رہی ہے، عوام اب احتجاج کے محرکات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو خود دیکھ رہے ہیں،عوامی سطح پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کیلئے ہونے والی کسی بھی جدوجہد کا مقصد ریاست اور عوام کے مسائل کا حل ہونا چاہیے نہ کہ ایسی صورتحال پیدا کرنا جس سے معاشی، سماجی اور انتظامی معاملات مزید پیچیدہ ہوں۔
شاہنواز اعوان نے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے احتجاج کے بجائے مذاکرات اور آئینی و قانونی ذرائع کو ترجیح دی جائے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھتے ہوئے عوام کے حقیقی مسائل حل کیے جا سکیں۔




