نئی دہلی(کشمیر ڈیجیٹل) مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ شکست کے باوجود بھارت نے ایک بار پھر اپنی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
بھارتی وزارتِ دفاع کی جانب سے 160 جدید سمارٹ اینٹی ایئر فیلڈ ویپنز (SAAW) کی خریداری کے معاہدے کے بعد خطے میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا نئی دہلی مستقبل میں پاکستان کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے؟
رپورٹس کے مطابق بھارت نے تقریباً 811 کروڑ بھارتی روپے، یعنی لگ بھگ 84 ملین ڈالر مالیت کے 160 سمارٹ اینٹی ایئر فیلڈ ویپنز خریدنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ جدید گائیڈڈ ہتھیار دشمن کے فضائی اڈوں، رن ویز، ہینگرز اور دیگر اہم تنصیبات کو دور سے نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پہلگام فالس فلیگ ،مودی کے مذموم سیاسی عزائم ایک بار پھر بھارت میں ہی بے نقاب
دفاعی حلقوں کے مطابق ایسے ہتھیاروں کا بنیادی مقصد دشمن کے جنگی طیاروں کو فضاء میں بلند ہونے سے پہلے ہی محدود کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی شدید فوجی جھڑپوں کے تناظر میں بھارتی دفاعی خریداری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
کیا بھارت مئی 2025 کا سبق بھول گیا؟
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی نے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔ دونوں جانب سے میزائل، ڈرونز اور جنگی طیاروں کا استعمال ہوا، جبکہ متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے اس دوران آپریشن بنیان المرصوص کے ذریعے بھارتی حملوں کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی فوجی تنصیبات اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاکستان نے بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیے۔
اسی جنگ کے دوران بھارتی رافیل طیاروں کے نقصان کا معاملہ بھی عالمی سطح پر زیر بحث رہا۔ پاکستان نے متعدد بھارتی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بھارت نے اپنے نقصانات کی مکمل تعداد عوام کے سامنے نہیں رکھی۔ یوں مئی 2025 کی لڑائی دونوں ملکوں کے لیے جدید فضائی جنگ کی صلاحیتوں کا ایک اہم امتحان ثابت ہوئی۔
سمارٹ ہتھیار، ایک واضح پیغام؟
بھارت کی جانب سے 160 SAAW کی خریداری کو دفاعی ماہرین نئی دہلی کی طویل فاصلے سے دشمن کے فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
یہ ہتھیار ایسے وقت میں خریدے جا رہے ہیں جب بھارت پہلے ہی اپنی فضائیہ کے لیے جدید طیاروں، ڈرونز، میزائلوں اور دیگر جنگی نظاموں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
بھارتی دفاعی تیاریوں میں ڈرونز کی تیاری بھی شامل ہے اور بھارتی حلقوں میں مختلف جدید ڈرون پروگرامز کے حوالے سے بھی دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ بھارتی سوشل میڈیا پر آپریشن سندور کے حوالے سے بھی ایسی بحث جاری ہے جس میں مستقبل میں پاکستانی فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
تاہم ان دعووں میں سے بعض کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
1965 سے 2019 اور 2025 تک فضائی محاذ
پاکستانی عوام کیلئے بھارتی فضائی کارروائیوں اور اس کے جواب کی تاریخ نئی نہیں۔ 1965 کی جنگ میں ایم ایم عالم کی فضائی کارکردگی آج بھی پاکستان میں فضائی جنگ کی تاریخ کا نمایاں باب سمجھی جاتی ہے۔
2019 میں بالاکوٹ کے بعد ہونے والی فضائی جھڑپ میں بھی پاکستان نے بھارتی طیارہ مار گرانے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا۔
مئی 2025 میں ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کی فضائی طاقت آمنے سامنے آئی۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ اس نے بھارتی طیاروں کو نقصان پہنچایا، جبکہ بھارت نے بھی اپنی کارروائیوں کو کامیاب قرار دیا۔ یوں مئی 2025 کی جنگ کے نتائج آج بھی دونوں ممالک کے سرکاری بیانیوں میں مختلف انداز سے پیش کیے جاتے ہیں۔
’بم خریدنے سے جنگیں نہیں جیتیں جاتیں‘
پاکستانی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت اگر جدید ہتھیاروں کی خریداری کے ذریعے یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے تو مئی 2025 کے واقعات اس کے لیے ایک اہم سبق ہیں۔
پاکستان نے ماضی میں بھی واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی حلقوں میں یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ صرف جدید بم، میزائل یا جنگی طیارے جنگ کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ تربیت، انٹیلی جنس، فضائی دفاع، آپریشنل تیاری، ٹیکنالوجی اور فوجی عزم بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
نئی دہلی کے لیے ایک بار پھر امتحان؟
بھارت کی جانب سے 160 سمارٹ اینٹی ایئر فیلڈ ویپنز کی خریداری خطے میں جاری دفاعی مقابلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ اگرچہ اس خریداری کو باضابطہ طور پر پاکستان کے خلاف آئندہ جنگ کی تیاری قرار نہیں دیا گیا، تاہم مئی 2025 کے واقعات کے بعد پاکستان میں اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے تیار بھی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی دہلی کی بڑھتی ہوئی دفاعی تیاریاں صرف طویل المدت عسکری جدیدکاری تک محدود رہتی ہیں یا خطے میں ایک بار پھر فوجی کشیدگی کو جنم دیتی ہیں۔
مئی 2025 نے دونوں ملکوں کو یہ حقیقت ضرور یاد دلائی تھی کہ جنوبی ایشیا میں جنگ کا راستہ انتہائی خطرناک ہے۔ جدید ہتھیاروں کے اس نئے دور میں اصل امتحان صرف ہتھیار جمع کرنے کا نہیں بلکہ بحران کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کا بھی ہے۔




