عالمی صرافہ مارکیٹ میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ کے بعد منگل کے روز ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم قیمتی دھات اب بھی گزشتہ سات ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہی موجود ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر سرمایہ کاروں اور ماہرین کی تمام تر توجہ امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار، مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار اور امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی اور شرح سود کے فیصلوں پر مرکوز ہے۔
رپورٹس کے مطابق منگل کے روز اسپاٹ گولڈ کی فی اونس قیمت میں تقریباً 0.4 فیصد کا اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 4,130.58 ڈالر فی اونس کی سطح پر جا پہنچی، لیکن اس کے باوجود سونا 5 اگست کے بعد کی کم ترین سطح کے قریب ہی ٹریڈ کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تقریبا 4 فیصد تک کی تاریخی کمی دیکھی گئی تھی اور قیمت گر کر 4,111 ڈالر فی اونس پر آ گئی تھی۔ سونے کی قیمتوں میں اس شدید اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو بلند رکھنے کے امکانات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 12 ہزار 800 روپے کی بڑی کمی
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ بھی براہِ راست سونے کی مارکیٹ کو متاثر کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے تیل مہنگا ہو رہا ہے جس سے عالمی سطح پر مہنگائی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان تمام ملکی و بین الاقوامی معاشی عوامل کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں طور پر دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق پیر کے روز فی تولہ سونا 12,800 روپے کی بڑی کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ہزار 136 روپے کا ہو گیا تھا جبکہ 10 گرام سونا بھی 10,973 روپے کمی سے 3 لاکھ 75 ہزار 631 روپے پر آ گیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں سونے کی قیمتوں کا رخ مکمل طور پر آنے والے امریکی معاشی اشاریوں اور فیڈرل ریزرو کے فیصلوں سے طے ہوگا۔




