وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بڑا قدم، زکوٰۃ کونسل تحلیل اور ہزاروں صوابدیدی عہدے دار برطرف

آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم افتخار گیلانی نے خطے میں جاری معاشی بحران پر قابو پانے، شاہ خرچیوں کو روکنے اور انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے انتہائی سخت اور تاریخ ساز فیصلے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے زکوٰۃ کونسل کو توڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوابدیدی عہدوں پر فائز لگ بھگ 3000 افراد کو فارغ کرنے کی سمری منظور کر لی ہے اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

برطرف ہونے والے ان عہدے داروں میں چیئرمین زکوٰۃ کونسل و ممبران، 10 اضلاع کے چیئرمینز، حلقہ چیئرمینز، اور مقامی کمیٹیوں کے 2300 چیئرمینز کے علاوہ چیئرمین علماء مشائخ کونسل و ممبران اور کوآرڈینیٹر تجوید القرآن بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم معائنہ کمیشن، انوسٹمنٹ بورڈ اور کلچرل اکیڈمی کے چیئرمینز اور ممبران کو بھی پہلے ہی بیک جنبش قلم فارغ کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا کوٹلی میں ڈی ایس ایل سروس بحالی کا اعلان،چندعلاقوں میں سروس معطل رکھنے کا فیصلہ

دوسری جانب محکمہ زکوٰۃ و عشر، جس کی سالانہ آمدنی تقریباً 30 کروڑ جبکہ اخراجات 35 کروڑ روپے سے زائد ہو چکے ہیں، میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور ڈاؤن سائزنگ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت 256 ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ (ون ٹائم پیکیج) دیا جائے گا۔

سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے وزیراعظم افتخار گیلانی کی جانب سے شروع کیے جانے والے اس سخت احتسابی اور اصلاحاتی عمل، خود انحصاری کی پالیسی، اور نمود و نمائش سے گریز کو زبردست پذیرائی بخشی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کی اولین ترجیحات میں احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن جیسے اداروں کو مکمل طور پر فعال بنانا بھی شامل ہے تاکہ ریاست کو حقیقی معنوں میں ایک رول ماڈل بنایا جا سکے۔