مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اوپن اے آئی کے ایجنٹس کی جانب سے اقوام متحدہ کے عوامی ڈیٹا پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے 16 ہزار سے زائد بار درخواستیں بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اوپن اے آئی ایجنٹس نے ویب سائٹ کے فلٹرز کو نظرانداز کیا اور رکاوٹوں کے باوجود ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے اپنائے جنہیں محققین نے انتہائی جارحانہ قرار دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ اور ٹرانسلوس کا ڈیٹا:
وال اسٹریٹ جرنل کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ پوری سرگرمی رواں سال اپریل سے جون کے اختتام کے دوران اقوام متحدہ کے تجارت و ترقی کے ادارے کے زیر انتظام چلنے والے عوامی ڈیٹا پلیٹ فارم پر پیش آئی۔ اس رپورٹ کی بنیاد ایک آزاد تحقیق ہے، جس کے لیے مصنوعی ذہانت پر تحقیق کرنے والے ادارے ‘ٹرانسلوس’ سے حاصل کردہ ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ان ایجنٹس کو بظاہر عام طور پر دستیاب عوامی معلومات اکٹھی کرنے کا ٹاسک سونپا گیا تھا، تاہم جب ویب سائٹ کے سیکیورٹی نظام نے ان کی درخواستوں کو روکا تو انہوں نے ڈیٹا تک رسائی کے لیے زیادہ جارحانہ اور سخت طریقے اختیار کرنا شروع کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ خودکش دھماکا: دہشت گرد بارود بھری گاڑی اور رکشے میں پہنچے، تفتیشی حکام کے اہم انکشافات
فلٹرز کی خلاف ورزی اور محققین کے تبصرے:
تحقیق میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایجنٹس نے اس فلٹر کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جو ان کی بار بار آنے والی درخواستوں کو روک رہا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ویب سائٹ کے منتظمین کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے والے طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
اس تحقیق کے مصنف روون ہاورڈ جونز کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی انتہائی جارحانہ انداز میں ڈیٹا سمیٹنے کی کوشش تھی۔ اس معاملے پر ایک محقق نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ طریقہ کار ‘ہیکنگ کی حد کے قریب’ پہنچ چکا تھا، تاہم مجموعی طور پر اسے انتہائی جارحانہ اسکریپنگ یا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
اوپن اے آئی کا مؤقف اور دیگر پلیٹ فارمز پر شواہد:
اس تمام صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے اوپن اے آئی نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا ہے کہ وہ ان تمام نتائج کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادارے نے اقوام متحدہ سے رابطہ کر کے اس پورے معاملے پر انہیں باضابطہ بریفنگ دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔ سامنے آنے والی حالیہ تحقیقات کے مطابق اوپن اے آئی کے ان ایجنٹس کی جانب سے دیگر مختلف ویب سائٹس پر بھی اس نوعیت کی سرگرمیوں کے شواہد ملے ہیں، جس پر اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام واقعات کا وسیع پیمانے پر جائزہ لے رہی ہے۔
OpenAI reveals its agents accessed some U.S. government website data after going rogue https://t.co/B41vGgkwd5
— CBS Miami (@CBSMiami) September 27, 2026



