کوہاٹ خودکش دھماکا: دہشت گرد بارود بھری گاڑی اور رکشے میں پہنچے، تفتیشی حکام کے اہم انکشافات

کوہاٹ میں 18 ستمبر کو پرانی پولیس لائنز میں پیش آنے والے خودکش دھماکے کے حوالے سے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی تفتیشی ٹیم کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔ تفتیش کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے حملے تک پہنچنے کے طریقہ کار اور دیگر اہم حقائق سے متعلق چشم کشا معلومات سامنے آئی ہیں۔

حملے کی تیاری، طریقہ کار اور اسلحے کی منتقلی:

تفتیشی حکام کے مطابق اس ہولناک حملے کے لیے دہشت گرد بارود سے بھری ہوئی گاڑی اور ایک رکشے کے ذریعے پولیس لائنز تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خودکش بمبار رکشے کے اندر سوار تھا، جبکہ اس کے علاوہ دو دیگر دہشت گرد موٹرسائیکل پر سوار ہو کر پولیس لائنز تک پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکا: ملوث ایک خودکش بمبار افغان شہری نکلا

حکام کا انکشاف ہے کہ یہ دہشت گرد حملے کی غرض سے دیسی ساختہ بارودی سرنگوں (آئی ای ڈیز)، دستی بموں اور بھاری اسلحے کی بڑی کھیپ بھی اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس کے علاوہ تفتیش کے دوران یہ اہم نکتہ بھی عیاں ہوا ہے کہ اس کارروائی کو عملی جامہ پہنانے سے قبل پولیس لائنز کی متعدد بار ریکی کی گئی تھی۔

سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور فارنزک شواہد:

تفتیشی حکام کے مطابق اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث تمام سہولت کاروں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان نامعلوم سہولت کاروں میں مبینہ طور پر وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے دہشت گردوں کو رہائش کے لیے مکان فراہم کیا اور انہیں باآسانی پولیس لائنز تک رسائی دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس واقعے سے متعلق جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے بعض نہایت اہم شواہد کو تفصیلی فارنزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ ان فارنزک رپورٹس کے موصول ہونے کے بعد اس تحقیقات میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔