نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آج سے لے کر 30 ستمبر تک ملک کے بالائی اور دیگر علاقوں میں متوقع موسلاادھار بارشوں اور ممکنہ موسمی خطرات کے پیش نظر باضابطہ طور پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس دوران مختلف مقامات پر تیز بارش اور اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بالائی علاقوں اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ:
این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر،بالائی خیبر پختونخوا،گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، جبکہ بعض مقامات پر شدید بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کے اس نظام کی شدت میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں اور برساتی ندی نالوں میں اچانک طغیانی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے علاقوں استور، اسکردو، روندو، گھانچے اور شگر جبکہ آزاد کشمیر کی نیلم ویلی، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی میں سیلابی صورتحال کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات، باجوڑ، دیر، کوہستان، کولئی پالس، بٹگرام اور مانسہرہ میں بھی متعلقہ اداروں اور عوام کو سخت احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر سمیت مختلف علاقوں میں بارشیں، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
پنجاب، پوٹھوہار اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ:
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر تک پوٹھوہار، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری متوقع ہے۔ خوشاب، سرگودھا، چنیوٹ، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، لیہ اور ڈیرہ غازی خان میں تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، مری اور گلیات میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ میانوالی، خوشاب، بھکر، لیہ اور سیالکوٹ سمیت لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال اور جھنگ میں بھی اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے دیر، سوات، بونیر، مالاکنڈ، شانگلہ، بٹگرام، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، نوشہرہ، صوابی، مردان، پشاور، کرم، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بھی شدید بارش کا امکان ہے۔
متعلقہ اداروں اور عوام کے لیے ضروری ہدایات:
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور ضروری وسائل ہر لحاظ سے پہلے سے تیار رکھیں، اور بارشوں کے ساتھ ساتھ ندی نالوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں۔ اس کے علاوہ عوام کو بھی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ برساتی ندی نالوں، پہاڑی نالوں اور پانی میں ڈوبی ہوئی سڑکوں کو عبور کرنے سے مکمل گریز کریں اور نشیبی و خطرے سے دوچار علاقوں میں خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔




