مانسہرہ اور بٹگرام میں طوفابی بارش، سیلابی ریلوں سے تباہی،2افراد جاں بحق،2بچے لاپتہ

خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ اور بٹگرام میں طوفانی بارش اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث 2 افراد جاں بحق جبکہ 2 بچے لاپتا ہو گئے، ندی نالے ابلنے سے 15 مکانات تباہ اور متعدد دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مانسہرہ شہر اور گرد و نواح میں غروبِ آفتاب سے کچھ دیر قبل اچانک مطلع ابر آلود ہوا اور موسلا دھار بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری شروع ہو گئی، جس سے سڑکوں نے ندی نالوں کی شکل اختیار کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:ملک کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

شدید بارش کے دوران اکبر خان روڈ پر نالے کے تیز بہاؤ میں ایک خاتون اور بچہ بہہ گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے لاری اڈا کے قریب سے خاتون کی لاش نکال لی، جبکہ لاپتا بچے کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔

دوسری جانب ضلع بٹگرام کی تحصیل الائی کے علاقے کنڈ میں پہاڑی نالوں کا سیلابی ریلا آبادی میں داخل ہو گیا۔ سیلابی ریلے کی زد میں آ کر 5 سالہ معصوم بچہ جاں بحق ہو گیا، جبکہ 7 سالہ بچی تیز پانی میں بہہ کر لاپتا ہو گئی۔

بٹگرام پولیس کے مطابق ناگہانی سیلابی ریلے نے 15 مکانات کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا، جبکہ کئی دکانیں اور گھر شدید متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ دیہاتیوں کی ملکیت متعدد مویشی بھی تیز پانی میں بہہ گئے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں بھاری مشینری اور امدادی ٹیمیں روانہ کر دیں۔

مقامی رہائشیوں کی مدد سے تباہ شدہ مکانات کے ملبے سے سامان نکالنے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے، جبکہ سڑکوں سے ملبہ ہٹا کر آمد و رفت بحال کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیپال سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں تھا ، امریکی ادارے کی وضاحت سامنے آ گئی

خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع بالخصوص ہزارہ ڈویژن میں پہاڑی خطے کے باعث اچانک بادل برسنے سے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔

محکمہ موسمیات اور مقامی انتظامیہ نے ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر شہریوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔