بھارت میں کاکروچ پھر سڑکوں پر آنے کو تیار، 48گھنٹوں کی ڈیڈلائن دیدی

بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی نے وارننگ دی ہے کہ اگر بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ نہ دیا تو وہ ملک گیر احتجاج شروع کر دیں گے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ الٹی میٹم ایک اخباری رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں پر ان کے ماتحت افسران نے اعتراضات اٹھائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کے دوران گرفتار مظاہرین کو رہانہ کرنے پر دوبارہ سڑکوں پر آنے کی دھمکی

اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا ہے تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو الیکشن میں فائدہ پہنچایا جاسکے۔

ایک بھارتی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو الیکشن کمشنرز نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے سامنے ووٹر لسٹوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے عمل کے حوالے سے سوالات اٹھائے یا اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اخبار کے مطابق اعتراضات نئے ووٹرز کے اندراج اور ووٹرز کے نام فہرست سے نکالنے اور دوبارہ شامل کرنے کے طریقہ کار سے متعلق تھے۔

دونوں کمشنرز نے نئے ووٹرز کے لیے آن لائن فارم 6 میں کی گئی تبدیلی پر بھی اعتراض کیا تھا، فارم میں پوچھا گیا تھا کہ آیا نئے ووٹر، ان کے والدین یا دادا دادی کا نام پرانی ووٹر فہرست میں موجود تھا یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق سوال کو لازمی ظاہر کرنے کا نشان موجود نہیں تھا تاہم آن لائن سسٹم میں ایسی شرط رکھی گئی تھی کہ جواب دیے بغیر فارم آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سیاسی جماعتیں ملکی نظام ٹھیک کریں ورنہ کاکروچ اکھٹے ہوگئے تو سارا نظام الٹ دیں گے ،محسن نقوی

معترض الیکشن کمشنرز کا کہنا تھا کہ فارم 6 میں اس طرح کی تبدیلی کے لیے متعلقہ قانون میں ترمیم ضروری ہے۔

اس رپورٹ کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت ڈِپکے نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر گیانیش کمار نے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ نہ دیا تو کاکروچ جنتا پارٹی ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرے گی،ہم گیانیش کمار کے استعفے کے بغیر ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔