مند :سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایران فرار ہونے کی کوشش ناکام، ایک دہشتگرد ہلاک

مند(کشمیرڈیجیتل) بلوچستان کے علاقے مند میں سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت انٹیلی جنس، مؤثر نگرانی اور فوری جوابی کارروائی کے ذریعے ایک دہشتگرد کو ہلاک کر دیا، جو مبینہ طور پر پاکستان سے ایران فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق LAC شبیر عرف زرین اور LAC غالب عرف حمل کی قیادت میں ایک مسلح گروپ، جسے سابقہ طور پر FAH-BLF سے منسلک بتایا جاتا ہے، مند ایریا آف ریسپانسبلٹی (Mand AOR) میں سرگرم ہے۔ مذکورہ گروپ پر حالیہ عرصے میں علاقے میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

ذرائع کے مطابق 22 ستمبر 2026 کو مذکورہ گروپ نے راڈیگ بارڈر کراسنگ (Radig Border Crossing) پر فائر ریڈ کیا اور مبینہ طور پر آگ لگانے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔

اسی سلسلے میں 24 ستمبر 2026 کو ماہیر پوسٹ کے قریب ایک گشتی پارٹی کو مبینہ طور پر آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک فوجی زخمی ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں نگرانی اور سرچ آپریشن کو مزید مؤثر بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق WICE 165 W سے موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ گروپ کے ارکان پاکستان سے فرار ہو کر ایران جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر بارڈر پر تعینات چوکیوں کو فوری طور پر الرٹ کیا گیا، جبکہ پاکستان-ایران بارڈر (PIB) پر نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 24 ستمبر کو شام 5 بج کر 42 منٹ پر مذکورہ گروپ کے افراد کو بارڈر پوائنٹس BP-219 اور P-210 کے درمیان پاکستان سے ایران کی جانب فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کارروائی کی۔ ذرائع کے مطابق A/QC engagement کے نتیجے میں ایران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ دیگر افراد کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بروقت انٹیلی جنس معلومات کے حصول، بارڈر پر مؤثر نگرانی، چوکیوں کو فوری الرٹ کرنے اور موقع پر تیز رفتار ردعمل نے دہشت گردوں کی سرحد پار فرار ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد مند AOR اور پاکستان-ایران سرحدی علاقے میں سیکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ مشتبہ نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت روکنے، ان کی سرحد پار فرار کی کوششوں کو ناکام بنانے اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور نگرانی کا سلسلہ جاری ہے۔