مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیر مسلمز کے چیئرمین اورجماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر خارجہ امور کے نمائندہ نذیر احمد قریشی نے جماعت اسلامی پاکستان کے صفِ اول اور بزرگ رہنما حافظ محمد ادریس کی وفات پر گہرے رنج و غم اور دلی صدمے کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی رحلت سے جماعت اسلامی پاکستان ایک ایسے مخلص، بے لوث اور قدرآور رہنما سے محروم ہوگئی ہے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی تحریکِ اسلامی کی آبیاری، فکری و دعوتی جدوجہد اور اقامتِ دین کے مقصد کیلئے وقف کیے رکھی۔
لندن سے جاری کیے گئے اپنے تعزیتی بیان میں نذیر احمد قریشی نے کہا کہ حافظ محمد ادریس کی زندگی عزم، استقامت، اخلاص اور وفاداری کا ایک روشن نمونہ تھی۔ وہ ان خوش نصیب شخصیات میں سے تھے جنہیں بانیِ تحریکِ اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قربت، صحبت اور فکری تربیت نصیب ہوئی۔
سید مودودی سے وابستہ ہونے کے بعد انہوں نے جس مقصد اور مشن کو اپنی زندگی کا محور بنایا، آخری سانس تک اسی سے وفاداری نبھائی۔
انہوں نے کہا کہ کسی تحریک سے وابستگی محض رکنیت یا تنظیمی تعلق کا نام نہیں بلکہ اس کے مقصد، فکر اور نظریے کے ساتھ زندگی بھر کی وفاداری کا تقاضا کرتی ہے،
حافظ محمد ادریس نے اس تعلق کو نبھا کر اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا۔ سید مودودی کے ساتھ ان کا تعلق اور پھر تحریکِ اسلامی کے ساتھ آخری دم تک وابستگی اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے نظریے اور مقصد کے ساتھ غیر معمولی اخلاص رکھتے تھے۔
نذیر احمد قریشی نے کہا کہ حافظ محمد ادریس نے اپنی زندگی میں دعوت، تربیت، تصنیف و تالیف، تنظیم اور خدمت کے مختلف میدانوں میں جو سعیِ جمیلہ انجام دیں، وہ تحریکِ اسلامی کا قیمتی سرمایہ ہے۔
ان کی شخصیت علم، عمل اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ وہ نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت کےلئے بھی ہمیشہ سرگرم رہے اور تحریک کے کارکنان کےلئے ایک رہنما اور مربی کی حیثیت رکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم تحریکِ آزادیِ کشمیر کے بھی بڑے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان کی وابستگی محض ایک سیاسی موقف تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ مظلوم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کے جائز حقوق کےلئے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے۔
چیئرمین ROKM نے کہا کہ حافظ محمد ادریس کی جدائی نے ہمارے دل مغموم کر دیے ہیں۔ ابھی ہم امیرالعظیم کی جدائی کا غم ہی سہہ رہے تھے کہ حافظ محمد ادریس بھی داغِ مفارقت دے گئے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریکِ اسلامی کے ایک عہد کی کئی تابندہ شخصیات یکے بعد دیگرے ہم سے رخصت ہو رہی ہیں، تاہم ان کی زندگیوں کی روشن مثالیں، جدوجہد اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
نذیر احمد قریشی نے کہا کہ ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ حافظ محمد ادریس کی پوری زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب کوئی شخص کسی عظیم مقصد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لے اور اسے آخری سانس تک نبھائے تو اس کا کردار اس کی زندگی کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام دینی، دعوتی، علمی اور تحریکی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔




