قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ورک فرام ہوم پالیسی اور کفایت شعاری کے نئے اقدامات نافذ

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کی خاطر ملازمین کے لیے نئی ورک فرام ہوم پالیسی کا نفاذ کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں کئی پابندیاں بھی عائد کر دی گئی ہیں۔

مذکورہ پالیسی کے دائرہ کار میں عملے کا نصف حصہ دفتر جبکہ باقی پچاس فیصد ملازمین گھر سے اپنے سرکاری فرائض سرانجام دیں گے۔ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ کفایت شعاری کے ان اقدامات کا مقصد ملک میں انتظامی و مالی اخراجات کو نمایاں طور پر محدود کرنا ہے۔

ملازمین کے لیے روٹیشن ڈیوٹی اور دستیابی:

گھر سے فرائض ادا کرنے والے ملازمین کے لیے باقاعدہ طور پر روٹیشن کی بنیاد پر ایک نیا ڈیوٹی روسٹر مرتب کیا جائے گا۔ متعلقہ ملازمین کو دوران ڈیوٹی ٹیلی فون، الیکٹرانک میل اور واٹس ایپ کے ذریعے ہم وقت دستیاب رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کسی بھی قسم کی ضرورت پیش آنے کی صورت میں گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو محض ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر طلب کیا جا سکے گا۔ اس حوالے سے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ ملازمین اپنے رابطے کے ذرائع ہر وقت فعال رکھیں اور اپنی فوری دستیابی کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کے لیے لیو رولز 1981: مکمل گائیڈ اور تفصیلات سامنے آ گئیں

الاؤنسز کی بندش اور اسٹیشن چھوڑنے کی پابندی:

نئی پالیسی کے تحت گھر سے فرائض انجام دینے والے ملازمین کو کسی قسم کا ڈیلی الاؤنس اور اوور ٹائم ادا نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسی بھی مجاز افسر کی پیشگی اجازت کے بغیر متعلقہ ملازمین کو اپنا اسٹیشن چھوڑنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

یہ تمام تر اقدامات قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مجموعی اخراجات کو محدود رکھنے کی غرض سے اٹھائے گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے مختلف شعبوں میں ہونے والے غیر ضروری اخراجات میں کمی کے لیے مزید کئی سخت پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔

ایندھن میں کمی اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی:

کفایت شعاری کے ان خصوصی اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ طے پانے والے فیصلے کے مطابق آنے والے تین ماہ کے دوران سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سیکریٹریٹ کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے غیر ترقیاتی بجٹ میں ماہانہ بنیادوں پر پانچ فیصد کمی لانے کا اہم فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

اجلاسوں کا انصرام اور ورچوئل طریقہ کار:

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے جملہ اجلاسوں کے حوالے سے بھی ایک نئی کفایت شعاری پالیسی وضع کی گئی ہے۔ تمام تر اجلاسوں کو اب ترجیحی بنیادوں پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی ورچوئل طریقوں سے ہی منعقد کرنے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اجلاسوں کی تعداد کو بھی کم سے کم رکھنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ انتظامی اخراجات کو مؤثر طریقے سے محدود رکھا جا سکے۔

خریداری اور بیرون ملک دوروں پر پابندی:

کفایت شعاری کے ان نئے اقدامات کے تحت تمام تر پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ ضروری سامان کو اس تمام پابندی سے باقاعدہ طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں آئندہ تین ماہ کے لیے بیرون ملک کیے جانے والے سرکاری دوروں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔ اگرچہ اسکالرشپس، تربیتی کورسز، بین الاقوامی پروگرامز اور سرکاری معاہدوں کے تحت ہونے والی تربیت کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔

سرکاری تقریبات اور اخراجات کو محدود کرنا:

ان نئے اقدامات کے تحت غیر ملکی معزز وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں اور حکومت کے زیرِ انتظام فنڈ کیے جانے والے سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔

کسی بھی ناگزیر تقریب کے انعقاد کی صورت میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا اپنا آڈیٹوریم اور تمام دستیاب سرکاری سہولیات ہی استعمال کی جائیں گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تقریبات کے موقع پر آنے والے تمام اضافی اخراجات کو کم کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: شادی کی تقریبات پر بڑی پابندی، حکومت کا نیا کفایت شعاری حکم نامہ جاری