ٹرمپ کی اے آئی کا نام بدلنے کی تجویز، ’سپر انٹیلیجنس‘ کی نئی اصطلاح پر ماہرین کے تحفظات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ یعنی اے آئی کی اصطلاح کو تبدیل کر کے اسے ’سپر انٹیلیجنس‘ یا ایس آئی کا نام دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس پر ٹیکنالوجی کے ماہرین کی طرف سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے مؤقف اپنایا کہ ’مصنوعی ذہانت‘ کا لفظ اس ٹیکنالوجی کو غیر حقیقی احساس سے دوچار کرتا ہے، اس لیے تمام دفتری دستاویزات میں اب درست اصطلاح ’سپر انٹیلیجنس‘ استعمال کی جانی چاہیے۔ اس سے قبل انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رائے شماری بھی کرائی تھی جس میں اسی نام کو سب سے زیادہ پذیرائی ملی تھی۔

ماہرین کے تحفظات اور خدشات:

ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس نئی اصطلاح کے استعمال پر شدید شکوک کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف میلبورن کے لیکچرر سائمن کوگلن کا کہنا ہے کہ موجودہ اے آئی سسٹمز کو سپر انٹیلیجنس کہنا حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

کمپیوٹر سائنس دان کوکل جیدکا اور سنگاپور کے لیکچرر بین لیونگ کے مطابق محققین اس اصطلاح کو مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کے لیے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں جو ہر شعبے میں انسانی صلاحیتوں سے سبقت لے جائے، لہذا موجودہ دور میں اس کا اطلاق درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباشریف عظیم لیڈر، بہترین شخص ہیں، ٹرمپ کی ایک بار پھر تعریف

سیاسی حلقوں کا ردعمل اور عالمی تناظر:

امریکی انتظامیہ میں ٹرمپ کے اس نظریے کی حمایت شروع ہو چکی ہے، جہاں چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایتھن کلائن اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیکل والٹز نے اس اصطلاح کو اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، کینیڈا کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت ایون سولومن نے اس پر محتاط رویہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام کی تبدیلی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں پائی جاتی۔

یہ اہم پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتیں یعنی امریکا اور چین اس ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں ہیں۔ صدر ٹرمپ سخت ضابطوں کے مخالف ہیں تاکہ امریکا کی چین پر تکنیکی برتری برقرار رہے، اور اس سلسلے میں رواں ہفتے ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔