وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شادی بیاہ کی تقریبات اور مختلف کاروباری سرگرمیوں سے متعلق حکومت کی جانب سے ایک نیا اور اہم حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ نئی کفایت شعاری اور ایندھن بچت پالیسی کے تحت ملک بھر اور بالخصوص اسلام آباد میں شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی سخت ہدایت جاری کی گئی ہے۔
شادی ہالز اور تجارتی مراکز کے لیے نئے اوقات کار:
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ان نئے اقدامات کا بنیادی مقصد ایندھن کی بچت اور تمام غیر ضروری اخراجات میں خاطر خواہ کمی لانا ہے۔ تازہ احکامات کے مطابق شادی ہالز، مارکیز اور ایسی تمام تجارتی جگہیں جہاں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، انہیں اب پابندی کے تحت رات 10 بجے تک لازمی طور پر بند کرنا ہوگا۔
حکومتی ہدایات کے مطابق شادی سے متعلق تمام تقریبات اور فنکشنز میں اب مہمانوں کے لیے صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس اہم فیصلے کو وسیع تر کفایت شعاری پیکیج کا ایک لازمی حصہ بنایا گیا ہے، جس میں سرکاری اخراجات، سفری سرگرمیوں اور ایندھن کے استعمال کو محدود کرنے کے دیگر اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دکانوں اور مارکیٹوں کی بندش کا وقت:
ان نئے اقدامات کے تحت اسلام آباد میں تمام دکانوں، مارکیٹوں، شاپنگ مالز، بازاروں، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، جنرل اسٹورز اور کریانہ اسٹورز کو رات 9 بجے تک بند کرنے کی واضح ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب ریسٹورنٹس، کیفے، کھانے پینے کی دیگر دکانوں اور تمام فوڈ آؤٹ لیٹس کے لیے رات 11 بجے تک اپنے کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی خدمات اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جمائما گولڈ اسمتھ کی دوسری شادی کی تصدیق، تصاویر جاری کردیں
حکام کے مطابق کچھ مخصوص اور ضروری خدمات کو کاروباری اوقات کی اس پابندی سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔ ان مستثنیٰ اداروں میں فارمیسیز، اسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، بیکریاں، تندور، دودھ اور ڈیری کی دکانیں، پیٹرول و سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز شامل ہیں۔
سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور دیگر پابندیاں:
اس جامع کفایت شعاری پیکیج میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں پچاس فیصد کمی اور تمام سرکاری اداروں کی جانب سے نئی گاڑیوں اور دیگر پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی جیسے سخت اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری افسران کے غیر ضروری بیرون ملک دوروں پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
سرکاری تقریبات کے حوالے سے بھی اخراجات کو کم کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن کے تحت تمام سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر پابندی ہوگی، البتہ غیر ملکی معزز وفود کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ حکومت کے مطابق یہ تمام اقدامات موجودہ حالات کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جن پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔



