پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی عادل بازئی بھی گرفتار،تعداد6 ہوگئی

اسلام آباد کے ریڈ زون سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک اورکن اسمبلی عادل بازئی کوبھی گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد گرفتار پارلیمنٹرینز کی تعداد 6 ہوگئی۔

گزشتہ روز سینیٹر سیف اللہ نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، میاں جمال احسن خان، داوڑ خان اور محمد غوث کو حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 27 ستمبر احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی فرمائشی گرفتاریاں

ذرائع کے مطابق زیر حراست پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو تھری ایم پی او کے تحت جہلم جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ گرفتار ممبران اسمبلی میں میاں احسن جمال اور ثنا اللہ مستی خیل شامل ہیں جبکہ سینیٹر سیف اللہ نیازی، غوث محمد اور داور کنڈی بھی زیر حراست ہیں۔

پولیس کی جانب سےپنجاب میں بھی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور بانی پی ٹی آئی کے بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مظفرآباد سے سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق سمیت پی ٹی آئی کےکئی کارکنوں کو حراست میںلیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو مجوزہ احتجاج سے پہلے ملک کی سیاسی فضا میں شدید گرمی اور تناؤ دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں ایک طرف اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت نے بھی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے احتجاج کے معاملے پر راولپنڈی میں آج تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کو کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، انٹرا سٹی اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ بحال رہے گی، اندرون شہر اور دیگر علاقوں کو ملانے والے راستے بھی کھلے رہیں گے، راولپنڈی میں کہیں کوئی شاہراہ بند نہیں کی گئی ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے آنے والے راستوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور موٹر وے، جی ٹی روڈ، 26 نمبر چونگی اور مارگلہ ٹیکسلا کے قریب خندقیں کھودنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چڑھائی کو ناکام بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کا حافظ نعیم کو فون، جماعت اسلامی کا مارچ ملتوی کرنے کا عندیہ

وفاقی وزیرداخلہ سید محسن نقوی نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی تیاری ہو رہی ہے، جو بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوشش کرے گا اس سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا اب بھی وقت ہے کہ بند گلی میں نہ جائیں، ایسی جگہ نہ جائیں جہاں سے واپسی کا راستہ نہ ہو، ہمارے پاس جو بھی قانونی راستہ ہوگا وہ اختیار کریں گے، اس بار یہ نہیں ہوگا کہ آپ آئیں اور ملک 10، 20 دن کے لیے بند ہو جائے، اس بار مستقل لائحہ عمل بنایا جائے گا، اس بار وفاقی حکومت بھرپور کردار ادا کرے گی، یہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔