خلاء میں بھی بڑی جنگ کا خطرہ، روس اور چین امریکہ پر برہم

واشنگٹن(کشمیر ڈیجیٹل)امریکہ نے پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے خلا میں ہتھیار تعینات کردیئے ہیں۔ چین اور روس واشنگٹن پر برہم ۔

جس پر چین اور روس نے خلا کو میدان جنگ بنانے سے خبردار کیا ہے جبکہ روس نے خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رکھنے پر زور دیا ہے۔

امریکی اسپیس فورس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے پاس مدار میں ایسے خلائی کنٹرول ہتھیار موجود ہیں جو دشمن کی کارروائیوں کیخلاف امریکی مشترکہ فوجی دستوں کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم بیان میں ان ہتھیاروں کی نوعیت یا تعداد سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا یہ انکشاف پہلے سے موجود ایک کھلے راز کی تصدیق ہے، تاہم اس اعلان کا وقت چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافے اور خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارت کو بڑا دھچکا، خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے کا مشن ناکام، 16 سٹلائٹس تباہ

امریکی اعلان بڑی طاقتوں کی جانب سے فوجی خلائی صلاحیتیں بڑھانے کی دوڑ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تیزی سے ہونے والی تکنیکی ترقی کے باوجود خلا میں ہتھیاروں سے متعلق جامع قانونی ضابطہ موجود نہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے خلا کو مسلح کرنے، اسے میدان جنگ میں تبدیل کرنے اور وہاں ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے کے خلاف خبردار کیا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کو خلا میں اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے اور وہاں جنگ کی تیاری سے باز آنا چاہیے۔

ہانگ کانگ کے آزاد فوجی تجزیہ کار اور چین کی فوج کے سابق انسٹرکٹر سونگ ژونگ پنگ نے کہا کہ امریکی اعلان کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ واشنگٹن کے پاس ایسی صلاحیتوں کا ہونا طویل عرصے سے ایک کھلا راز تھا۔

انہوں نے کہا کہ فرق صرف یہ ہے کہ امریکا پہلے ان صلاحیتوں کے بارے میں ابہام برقرار رکھتا تھا، جبکہ اب اس نے کھل کر اس کا اعلان کردیا ہے۔

ان کے مطابق چین خاموش نہیں بیٹھے گا، تاہم بیجنگ خلا میں ہتھیار تعینات کرتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔

روس نے بھی خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رکھنے پر زور دیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ سیف گارڈز معاہدہ طے

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کو امید ہے کہ عالمی سطح پر وسیع تعاون کے ذریعے خلا کی مکمل غیر عسکریت کیلئے کام جاری رکھا جائے گا۔

امریکی بیان میں خلا میں تعینات ہتھیاروں کی تعداد یا ان کی مخصوص نوعیت کے بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات نہیں دی گئیں۔

بیان کے مطابق خلائی کنٹرول میں ایسی کارروائیاں شامل ہیں جن کا مقصد خلائی میدان میں مخالف کی صلاحیتوں کو متاثر کرنا اور خلا پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جبکہ ان کے لیے متحرک اور غیر متحرک ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

غیر متحرک ذرائع میں سیٹلائٹس کو متاثر کرنے کے لیے لیزر اور ان کے ڈیٹا رابطوں میں برقی مقناطیسی یا سائبر مداخلت بھی شامل ہوسکتی ہے۔

امریکی بیان میں خلا میں تعینات ہتھیاروں کی تعداد یا ان کی مخصوص نوعیت کے بارے میں کوئی ٹھوس تفصیلات نہیں دی گئیں۔

بیان کے مطابق خلائی کنٹرول میں ایسی کارروائیاں شامل ہیں جن کا مقصد خلائی میدان میں مخالف کی صلاحیتوں کو متاثر کرنا اور خلا پر کنٹرول حاصل کرنا ہے، جبکہ ان کے لیے متحرک اور غیر متحرک ذرائع استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

غیر متحرک ذرائع میں سیٹلائٹس کو متاثر کرنے کے لیے لیزر اور ان کے ڈیٹا رابطوں میں برقی مقناطیسی یا سائبر مداخلت بھی شامل ہوسکتی ہے۔

امریکہ خلا میں ہتھیار کیوں چاہتا ہے؟

واشنگٹن کے مطابق چین اور روس خلا میں امریکی مفادات کے لیے ممکنہ خطرات ہیں۔

امریکی اسپیس فورس کا کہنا ہے کہ چین اپنی فوجی جدید کاری کی حکمت عملی کے تحت خلائی اور خلائی جوابی صلاحیتیں تیار اور استعمال کررہا ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق روس بھی خلا کو جنگی میدان سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ مستقبل کے تنازعات میں خلا پر برتری فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

خلا میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کا خدشہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ 1967 میں امریکا، سوویت یونین اور دیگر ممالک نے ’آؤٹر اسپیس ٹریٹی‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت مدار میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی۔

تاہم روس، امریکا، چین اور بھارت سمیت مختلف ممالک نے اس معاہدے کے دائرے سے باہر خلا میں جنگی صلاحیتیں بڑھانے اور مخالف ممالک کے سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کے طریقوں پر کام کیا ہے۔ سیٹلائٹس فوجی مواصلات، نگرانی اور رہنمائی کیلئے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خلائی قانون کی ماہر لیتیٹیا سیزاری کے مطابق 1967 کے معاہدے کی دفعہ 4 صرف بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے اور جوہری ہتھیاروں کو مدار میں رکھنے سے روکتی ہے، جس کے باعث خلا میں دیگر اقسام کے ہتھیاروں سے متعلق قانونی خلا موجود ہے۔