بھارت کو بڑا دھچکا، خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے کا مشن ناکام، 16 سٹلائٹس تباہ

بھارتی خلائی ادارے اسرو کے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کو خلاء میں سٹیلائٹ لانچنگ کے دوران تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔۔

بھارت کا سٹیلائٹ لانچنگ مشن تیسرے مرحلے میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ راکٹ کو سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے روانہ کیا گیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ایس ایل وی راکٹ کی یہ مسلسل دوسری ناکامی ہے، اس سے قبل مئی میں بھی اسرو کا ایک پی ایس ایل وی مشن اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن مفاداتی گروہ ،سیاسی نہیں فرنچائزجماعتیں،اظہر گیلانی

پی ایس ایل وی راکٹ صبح 10 بج کر 17 منٹ پر لانچ ہوا اور ابتدائی دو مراحل کامیابی سے مکمل ہوئے، جبکہ اسٹیج سیپریشن بھی معمول کے مطابق انجام پائی۔

تاہم لانچ کے قریباً 8 منٹ بعد تیسرے مرحلے کے دوران راکٹ میں خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث مشن آگے نہ بڑھ سکا۔

اسرو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پی ایس ایل وی-سی 62 مشن کو پی ایس تھری مرحلے کے اختتام پر تکنیکی مسئلہ درپیش آیا، جس کی مکمل جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ مشن پی ایس ایل وی ڈی ایل ویرینٹ کے ذریعے انجام دیا جا رہا تھا، جو اضافی طاقت کے لیے دو سالڈ اسٹریپ آن موٹرز سے لیس ہوتا ہے۔ راکٹ جدید ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ای او ایس این ون لے جا رہا تھا، جسے انویشا کا نام دیا گیا تھا۔

یہ سیٹلائٹ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے تیار کیا تھا اور اس میں ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی نصب تھی، جو ہر پکسل میں روشنی کی متعدد لہریں محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشن میں مجموعی طور پر 16 دیگر چھوٹے سیٹلائٹس بھی شامل تھے، جن میں اسپین کے ایک اسٹارٹ اپ کا تیار کردہ کیسٹرل انیشل ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریٹ شامل تھا، جو ایک چھوٹے ری انٹری وہیکل کا پروٹوٹائپ تھا اور جسے زمین کے ماحول میں واپس آ کر جنوبی بحرالکاہل میں لینڈ کرنا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا حکومت کا فوجی بریفنگ سے متعلق دعویٰ جعلی قرار، سرکاری ذرائع

اس کے علاوہ مشن میں حیدرآباد کے اسٹارٹ اپس ٹیک می ٹو اسپیس اور ای اون اسپیس لیبز کے سیٹلائٹس، برازیل کے پانچ سیٹلائٹس، برطانیہ اور تھائی لینڈ کا ایک ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اور نیپال کا ایک ٹیکنالوجی ڈیمانسٹریشن سیٹلائٹ بھی شامل تھا۔ مشن کا سب سے نمایاں سیٹلائٹ آئول سیٹ تھا، جسے بنگلورو کے اسٹارٹ اپ اوربٹ ایڈ ایئرو اسپیس نے تیار کیا۔

اس سیٹلائٹ کو خلا میں موجود سیٹلائٹس کو ایندھن فراہم کرنے کے تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا تھا، جسے مستقبل کے ’خلائی پٹرول پمپ‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اسرو کا منصوبہ تھا کہ تمام سیٹلائٹس کو سورج سے ہم آہنگ پولر مدار میں داخل کیا جائے۔

ایم او آئی ون سیٹلائٹ میں مدار میں کام کرنے والی ایک جدید اے آئی امیج پروسیسنگ لیب نصب تھی، جو ڈیٹا کو زمین پر منتقل کرنے کے بجائے خلا میں ہی پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اسے سپیس سائبر کیفے سے تشبیہ دی گئی تھی، جہاں صارفین مخصوص فیس کے عوض خلا میں کمپیوٹنگ وقت حاصل کر سکتے تھے۔ اس سیٹلائٹ میں دنیا کی سب سے ہلکی خلائی دوربین میرا بھی شامل تھی، جس کا وزن تقریباً 502 گرام بتایا گیا۔

اسرو کے مطابق راکٹ کی روانگی معمول کے مطابق تھی، تاہم تیسرے مرحلے کے دوران راکٹ اپنے مقررہ راستے سے ہٹنے لگا۔

ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر وی نارائنن نے بتایا کہ تیسرے مرحلے کے اختتام تک راکٹ کی کارکردگی درست رہی، اس کے بعد گھومنے کی رفتار میں خلل اور پرواز کے راستے میں انحراف سامنے آیا۔