بھمبر(کشمیر ڈیجیٹل) بھمبر کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے بعد پانی گھروں میں داخل ہوگیاجس سے شہریوں کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑگیا۔ گھریلو سامان تباہ ہوگیا۔
ڈپٹی کمشنر بھمبر کی ہدایت پر ایس ڈی ایم محمد سہیل بشیر اور چیئرمین بلدیہ الطاف ابراہیم کا متاثرہ علاقے کا دورہ، شہریوں کی جانب سے نالے کی ناقص تعمیر کی شکایات، انکوائری کا عندیہ
ذرائع کے مطابق موسلادھار بارش کے بعد رسول پور کالونی میرپور چوک کے مقام پر بارش کا پانی شہریوں کے گھروں میں داخل ہونے سے متعدد شہریوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
پانی گھروں میں داخل ہونے کے باعث شہریوں کے گھریلو سامان سمیت دیگر اشیاء متاثر ہوئیں، جس سے اہل علاقہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دانش سکولوں کی تعمیر، وزیراعظم افتخار گیلانی کو بریفنگ، سہولیات فراہمی کا فیصلہ
واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر بھمبر چوہدری محمد طارق کی ہدایت پر ایس ڈی ایم ہیڈکوارٹرمحمد سہیل بشیراور چیئرمین بلدیہ الطاف ابراہیم نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔
بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متاثرہ شہریوں سے ملاقات کی گئی اور ان کے مسائل و شکایات سنی گئیں۔
متاثرہ شہریوں نے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے اور نالے کی مبینہ ناقص تعمیر کے باعث پانی گھروں میں داخل ہوا، جس سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ نالے کی تعمیر اور نکاسی آب کے نظام کا جائزہ لے کر مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے تاکہ آئندہ بارشوں کے دوران ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم کی بڑھتی قیمتیں، ہفتہ وار 3 چھٹیاں،ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور
ایس ڈی ایم محمد سہیل بشیر نے شہریوں کی شکایات سنیں اور نالے کی تعمیر کے حوالے سے انکوائری کروانے کا عندیہ دیا۔
انہوں نے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے ضروری معلومات حاصل کیں اور شہریوں کو یقین دلایا کہ معاملے کو متعلقہ فورم پر اٹھایا جائے گا۔
اس موقع پر چیئرمین بلدیہ الطاف ابراہیم نے بھی متاثرہ علاقے کا جائزہ لیا اور نکاسی آب کے مسائل حل کیلئے ضروری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
اہل علاقہ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے پر اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ نالے کی تعمیر اور نکاسی آب کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔




