وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے پیٹرولیم ریلیف کے لیے ایک پروگرام کا اجراء کیا گیا ہے جس کے تحت ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزراء عطاء تارڑ اور علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا ہے کہ ٹو ویلر، تھری ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑی والوں کو ریلیف دیا جائے گا، جہاں ٹو ویلر کے لیے 20 لیٹر پیٹرول پر ریلیف ہے جبکہ 800 سی سی تک کے لیے 30 لیٹر پیٹرول پر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
رجسٹریشن کا طریقہ کار اور ہدایات:
انہوں نے بتایا ہے کہ ہم نے توازن رکھنا ہے کہ پروگرام سے زیادہ سے زیادہ شہری مستفید ہو سکیں، اور یہ پروگرام دو حصوں میں تقسیم ہے جس میں پہلے حصے کے تحت رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ آپ نے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم سے سی این آئی سی نمبر بھیجنا ہے، پھر آپ نے اپنی بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن بتانی ہے، اور آپ کو اپنے صوبے یا شہر کا بھی بتانا ہے جبکہ صوبہ آپ نے وہ ڈالنا ہے جس میں آپ کی گاڑی یا بائیک رجسٹرڈ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ بھی ضروری ہے، اور اگر معلومات میں کوئی کمی ہوئی تو میسج آئے گا کہ کیا کمی ہے، جبکہ یہ پراسس ایک بار ہی کرنا ہے جس سے آپ رجسٹرڈ ہو جائیں گے، اور پھر جب آپ پیٹرول لینے جائیں گے تو آپ نے 9771 پر TOK لکھ کر میسج کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اپنا شناختی کارڈ نمبر یا کوئی بھی ڈیٹا کسی سے بھی شیئر نہیں کرنا کیونکہ حکومت شہریوں سے نہ کوئی ڈیٹا مانگے گی اور نہ ہی کوئی چارجز مانگے گی، اور اس میں جو بھی غلطیاں ہوں گی ان کو دیکھیں گے اور ٹھیک کرتے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت کا موٹر سائیکل سواروں کے لیے بڑا ریلیف؛فیول سبسڈی دینے کا اعلان
وزراء کی گفتگو اور سابقہ اقدامات:
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نے اس اسکیم کا اجراء مستحق لوگوں کے لیے کیا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس اسکیم سے صرف مستحق ہی مستفید ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک بڑا شفاف پراسس اپنایا گیا ہے اور وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں، لہذا تمام وزارتیں اور محکمے اس کے لیے 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔ علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کبھی نہیں چاہیں گے کہ اپنے کسی شہری پر بوجھ ڈالیں کیونکہ پاکستان اپنی 90 فیصد توانائی کی ضرورت درآمد کرتا ہے، اور حکومت اور وزیرِ اعظم نے پہلے بھی سبسڈی میں وسائل کا انتظام پیشگی کیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ہمیں اضافی وسائل اکٹھے کرنے کی ہدایت کی تھی، اور اُس وقت بھی ٹارگیٹڈ ریلیف کا انتظام ترتیب دیا گیا تھا جو 30 جون تک چلا تھا۔




