چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی نے برکس سربراہی کانفرنس کے اعلامیے میں مسئلہ جموں کشمیر کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس دنیا میں منصفانہ نظام کی بات کرتا ہے، لیکن نئی دہلی میں ہونے والی کانفرنس کے اعلامیے میں مقبوضہ جموں کشمیر کے بنیادی مسئلے کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔
بھارتی جبر اور عالمی دوہرے معیار پر تنقید:
عزیر احمد غزالی کا کہنا تھا کہ اعلامیے میں مخصوص واقعات کی مذمت تو کی گئی لیکن مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری بھارتی جبر، دہشت گردی، سفاکیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو کوئی جگہ نہیں دی گئی، حالانکہ کسی بھی واقعے کے پس منظر میں موجود بنیادی مسئلے کو نظر انداز کرنے سے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت گزشتہ آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر ان کے ناقابلِ تسخیر سیاسی حق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راجہ شفیق احمد پلالَوی کی وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے خصوصی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ایک دیرینہ اور حل طلب عالمی تنازع ہے جسے نظرانداز کرنا درست نہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ یہی تنازع ہے اور کشمیر کا کوئی بھی بحران دونوں جوہری طاقتوں کو خطرناک تصادم کے قریب لے جا سکتا ہے۔ عالمی برادری اور برکس کے اہم رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ صرف دہشت گردی کی مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی آواز اٹھائیں۔
پائیدار امن کے لیے حقِ خودارادیت ناگزیر:
چیئرمین پاسبانِ حریت نے واضح کیا کہ کشمیر محض زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل اور حقِ خودارادیت کا بنیادی مسئلہ ہے، اور اس معاملے کو نظرانداز کر کے خطے میں کبھی بھی پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر برکس مذاکرات، امن، برداشت اور تنازعات کے پُرامن حل کی حمایت کا داعی ہے، تو یہی اصول اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر پر بھی لاگو ہونے چاہئیں تاکہ خطے میں مستقل امن کا راستہ ہموار ہو سکے۔




