وادی نیلم،پہاڑوں پر سردی کا راج ،بکروالوں نے ڈیرے سمیٹ لئے ، واپسی شروع

نیلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل)موسمی اثرات اور سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی پہاڑوں پر رہائش پذیر بکروال خاندانوں نے میدانی علاقوں کا رخ کرلیا۔

وادی نیلم کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں قیام پذیر بکروال قبائل کی اپنے مال مویشی سمیت پاکستان اور کشمیر کے دیگر علاقوں کی جانب موسمی واپسی تیزی سے جاری ہے۔

ہر سال موسم گرما کے آغاز پر بکروال خاندان اپنے مال مویشی کے ہمراہ وادی نیلم کے بالائی علاقوں اور سرسبز چراگاہوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں وہ کئی ماہ تک قیام کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیشن بدلا، مگر ’پھرن‘ نہ بدلا؛ خواتین کے ہاتھوں کی روایت آج بھی زندہ

تاہم موسم کی تبدیلی اور سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی تقریباً ایک ماہ قبل سے ان کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

وادی نیلم کے بلند پہاڑوں، وسیع چراگاہوں اور دشوار گزار راستوں سے بکروال خاندان اپنے بھیڑ، بکریوں، گھوڑوں اور دیگر مال مویشی سمیت بتدریج میدانی علاقوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

مختلف مقامات پر بکروال قافلے اپنے مال مویشی کے ہمراہ سفر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔بکروال قبائل کی یہ موسمی نقل مکانی صدیوں پر محیط روایتی طرزِ زندگی کا حصہ ہے۔

موسم کی مناسبت سے چراگاہیں تبدیل کرنا اور مال مویشی کو شدید سردی سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ خاندان ہر سال مختلف اوقات میں ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی جانب سفر کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرِ اعظم کی فیول ریلیف اسکیم، عوام کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار اور تفصیلات سامنے آ گئیں

کشمیر ڈیجیٹل میڈیا کی خصوصی رپورٹ کے مطابق وادی نیلم کی بلند چراگاہوں میں بکروال خاندانوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔۔

جبکہ بیشتر خاندان اپنے مال مویشی سمیت واپس روانہ ہو چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مزید بکروال خاندانوں کی میدانی علاقوں کی جانب واپسی متوقع ہے۔

بکروالوں کی یہ موسمی نقل مکانی نہ صرف ان کے روایتی طرزِ زندگی کی عکاس ہے بلکہ وادی نیلم کے پہاڑی علاقوں میں صدیوں سے جاری ثقافتی اور معاشرتی روایت کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔