آزاد کشمیر کا ایک ایسا علاقہ جہاں خواتین کے ہاتھوں تیار ہونے والا روایتی لباس ’پھرن‘ آج بھی اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ لباس آزاد کشمیر کے دیگر علاقوں میں عموماً دیکھنے کو نہیں ملتا، تاہم اپنے روایتی انداز، منفرد بناوٹ اور دلکش کاریگری نے شہریوں کو مبحوط کردیا۔
مقامی افراد کیساتھ ساتھ سیاحوں اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہریوں کی بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیرِ اعظم کی فیول ریلیف اسکیم، عوام کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار اور تفصیلات سامنے آ گئیں
پھرن کی تیاری میں مقامی خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ وہ اپنی محنت، مہارت اور روایتی ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ لباس تیار کرتی ہیں۔
ہاتھ سے تیار کئے جانے والے اس روایتی لباس کو پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہری نہ صرف دلچسپی سے دیکھتے ہیں بلکہ شوق سے خرید کر اپنے ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔
موسم سرد ہو یا گرم، پھرن اپنی منفرد ساخت اور روایتی انداز کے باعث اپنی کشش برقرار رکھتا ہے۔
یہ لباس محض ایک پہناوا نہیں بلکہ علاقے کی ثقافت، روایات اور خواتین کی فنی مہارت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مریم کشمیری کا ایم ایل اے منتخب ہونے کے بعد آبائی علاقہ آمد پر شاندار استقبال، جگہ جگہ ریلیاں اور جلسے
مقامی خواتین کے لیے پھرن کی تیاری اب ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ آمدن اور روزگار کا اہم ذریعہ بھی بن چکی ہے۔
بدلتے فیشن اور جدید ملبوسات کے رجحانات کے باوجود اس روایتی لباس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی، بلکہ نئی نسل اور دیگر علاقوں سے آنے والے افراد میں بھی اس کے بارے میں دلچسپی برقرار ہے۔
مقامی خواتین کا کہنا ہے کہ پھرن کی تیاری ان کے لیے صرف روزگار نہیں بلکہ اپنے آباؤ اجداد سے ملنے والی ایک قدیم روایت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔
ان کے مطابق اگر اس روایتی ہنر کو سرکاری اور نجی سطح پر سرپرستی، مارکیٹ تک بہتر رسائی اور مناسب تشہیر فراہم کی جائے تو پھرن نہ صرف مقامی بلکہ ملکی سطح پر بھی ایک نمایاں ثقافتی شناخت بن سکتا ہے۔




