نیپال اورتبت سرحد پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ۔ سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہو گئے ۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی نے ابتدائی تخمینہ پیش کردیا جس میں600 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو نے اور 2,400لوگوں کے لاپتہ ہونے کا کہا گیا ہے ۔
رپورٹس کے مطابق طوفان اور سیلاب کے باعث تبت میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے جبکہ چین کے سرکاری میڈیا نے مزید 554لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیپال میں تباہی سے 5 ماہ قبل سائنسی انتباہ، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سرحدی علاقے میں گلیشئر پھٹنے اور ڈیم ٹوٹنے سے سیلابی پانی سرحدی علاقے میں داخل ہوا، جس نے گھروں اور سڑکوں کو بہا دیا۔
ریسکیو ورکرز کا کہنا ہے کہ اب انہیں باقی بچ جانے والوں تک پہنچنے کے لیے ایک نازک لمحے کا سامنا ہے کیونکہ آفت کے نتیجے میں مزید سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
زلزلہ نہیں بلکہ گلیشیئر ٹوٹ کر گِرا،نیپال اور تبت کی سرحد پر تباہ کُن سیلاب کی تفیصلات سامنے آگئیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق گلیشیئر کے وادی کی تہہ سے ٹکرانے کا اثر اتنا شدید تھا کہ ایسا لگا کہ 5اعشاریہ 2 شدت کا زلزلہ آگیاہو،اس کے بعد بلند علاقے سے برف اور چٹانوں کا بڑا ٹکرا برف، پتھر اور ملبے کے ساتھ ندی میں جا گرا۔
اچانک پانی کا بہاؤ اتنا بڑھا کہ پانی،مٹی اورچٹانوں کا ایک طاقتور ریلا نچلے علاقوں کی طرف بڑھا،صرف 30 منٹ میں بعض مقامات پر پانی کی سطح سات سے نو میٹر تک بلند ہوگئی اورکئی واٹرچینلز تباہ ہوگئے۔
نیپال کے رسوا، نوواکوٹ، دھادنگ،گورکھا اور چتوان سمیت کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے، جہاں سڑکیں، پل، بجلی کا نظام اور پن بجلی کے منصوبے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیپال میں سیلاب کئی دیہات بہا لے گیا،157ہلاک، سیکڑوں لاپتہ ،غیر ملکی سیاح بھی شامل
ہمالیہ میں بڑھتا درجہ حرارت،گلیشیئرز میں تبدیلیاں،برفانی جھیلوں کا پھیلاؤ،مون سون بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ اچانک آنےوالی تباہی کےباعث بن رہی رہے۔
نیپال میں گزشتہ برس بھی اسی علاقےمیں برفانی جھیل پھٹنے کےبعدسیلاب آچکا ہے،ماہرین کاکہنا ہےکہ ایسے قدرتی واقعات کومکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن ارلی وارننگ سسٹم،سیٹلائٹ نگرانی اورسرحد پارمعلومات کےفوری تبادلے سےجانی نقصان کم کیا جاسکتا ہے۔
ہمالیہ میں بدلتا موسم اور تیزی سےپگھلتے گلیشیئرز اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہےبلکہ نیپال، تبت اورخطے کی لاکھوں آبادیوں کےلیے براہِ راست انسانی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ خطرناک علاقوں میں نئی آبادیاں روکنا اورپہلے سےموجود آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہی مستقبل میں ایسی تباہ کاریوں کو کم کرنےکا مؤثر ترین راستہ ہے۔




