برطانیہ میں قائم کشمیر سینٹر نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کے مجوزہ دورہ برطانیہ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں برطانیہ میں داخل ہونے سے روکا جائے۔
کشمیر سنٹر نے برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کو باضابطہ ڈوزیئر جمع کرا دیا جبکہ لندن میں ان کے ممکنہ پروگراموں کے حوالے سے میٹرو پولیٹن پولیس اور نیشنل پولیس چیفس کونسل سے ممکنہ جرائم اور امن عامہ کے خدشات کا جائزہ لینے کے لیے رجوع کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی طلباء کا آر ایس ایس کے کیخلاف احتجاج، پولیس تعینات
کشمیر سینٹر کے مطابق موہن بھاگوت آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک یعنی سربراہ ہیں اور تنظیم کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔
مرکز کا کہنا ہے کہ موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی اسی تنظیم کے سیاسی پس منظر سے ابھرے ہیں۔ بیان کے مطابق موہن بھاگوت 25 اگست کو نیویارک پہنچے، جہاں سے ان کا دورہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
آر ایس ایس کی جانب سے لندن میں کمیونٹی لیڈرشپ پروگرامز کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
کشمیر سینٹر کا موقف ہے کہ ان سرگرمیوں کو محض مذہبی یا کمیونٹی پروگرام قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ ان کے سیاسی اور نظریاتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
کشمیر سینٹر نے برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کو 25 اگست کو باضابطہ ڈوزیئر ارسال کیا جس کی نقل وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو بھی فراہم کی گئی۔
ڈوزیئر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ موہن بھاگوت کے برطانیہ داخلے کا فوری طور پر امیگریشن قوانین کے تحت جائزہ لیا جائے اور اس امر کا تعین کیا جائے کہ ان کی موجودگی برطانوی عوامی مفاد کے منافی تو نہیں۔
تنظیم نے امیگریشن رولز کی متعلقہ دفعات، خصوصاً SUI 3.1 اور جہاں قابل اطلاق ہو SUI 3.2، کے تحت جائزے کے علاوہ امیگریشن ایکٹ 1971 کے متعلقہ اختیارات کو بھی زیر غور لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر سینٹر نے برطانوی حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ بھاگوت کی امیگریشن حیثیت، برطانیہ آمد کی قانونی بنیاد اور ان کے برطانوی میزبانوں کی شناخت واضح کی جائے اور ان کے دورے سے انکار کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق ترجمان آر ایس ایس یشونت شندے کے بی جے پی سےمتعلق سنسنی خیز انکشافات
کشمیر سینٹر نے اپنے ڈوزیئر میں آر ایس ایس کی تاریخ اور بھارت میں اس پر عائد ہونے والی پابندیوں کو بھی اہم قرار دیا ہے۔
بیان کے مطابق مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد بھارتی حکومت نے 1948 میں آر ایس ایس پر پابندی عائد کی تھی۔
بعد ازاں ملک میں ایمرجنسی کے دوران 1975 میں بھی تنظیم پر پابندی عائد کی گئی۔ کشمیر سینٹر نے 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد آر ایس ایس پر دوبارہ پابندی عائد کیے جانے کا حوالہ بھی دیا ہے۔
بابری مسجد 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں ہندو انتہاپسند کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع کے دوران منہدم کر دی گئی تھی جس کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں شدید فرقہ وارانہ کشیدگی اور وسیع پیمانے پر فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
کشمیر سینٹر کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ماضی، اس کی نظریاتی سرگرمیوں اور اقلیتوں سے متعلق اس کے کردار کو برطانوی حکام کو موہن بھاگوت کے دورے کا جائزہ لیتے وقت نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
کشمیر سینٹر نے موہن بھاگوت کے مجوزہ لندن پروگرام کے حوالے سے الگ سے میٹروپولیٹن پولیس کمشنر اور نیشنل پولیس چیفس کونسل سے بھی رجوع کیا ہے۔
تنظیم کی درخواست میں پولیس سے کہا گیا ہے کہ لندن میں ہونے والے پروگراموں کے ممکنہ امنِ عامہ کے اثرات کا جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ آیا بھاگوت کی جانب سے برطانیہ میں کی جانے والی کوئی تقریر، شائع ہونے والا مواد یا دیگر سرگرمی برطانوی قانون کے تحت مذہبی منافرت پر اکسانے یا کسی دوسرے قابلِ تعزیر جرم کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں۔
کشمیر سینٹر نے تاہم یہ وضاحت بھی کی ہے کہ بھارت میں ماضی میں کی گئی تقاریر محض اس بنیاد پر برطانیہ میں جرم نہیں بن جاتیں، تاہم اگر برطانیہ میں کوئی ایسی تقریر کی جائے یا ایسا مواد تقسیم کیا جائے جو برطانوی قانون میں مقررہ جرائم کی قانونی شرائط پوری کرتا ہو تو متعلقہ اداروں کے لیے تحقیقات کا جواز پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت یکطرفہ سندھ طاس معاہدہ کو معطل نہیں کرسکتا،سفیر پاکستان رضوان سعید
کشمیر سینٹر نے موہن بھاگوت کے دورۂ امریکہ کے دوران سامنے آنے والی مخالفت کا بھی حوالہ دیا ہے۔
بیان کے مطابق نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے بھاگوت کے میڈیسن اسکوائر گارڈن پروگرام کی حمایت نہ کرنے کا اظہار کیا اور آر ایس ایس کو ایک امتیازی نوعیت کا منصوبہ قرار دیا۔
اسی طرح امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کی جانب سے بھی امریکی حکومت سے آر ایس ایس کے ارکان اور بعض بھارتی حکام کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرنے کی سفارش کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں موہن بھاگوت کا امریکی ویزا منسوخ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
کشمیر سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا ہے کہ آر ایس ایس برطانیہ میں محض ثقافتی یا مذہبی سرگرمی کے طور پر نہیں آ رہی بلکہ اس کے ساتھ اکثریتی سیاست، اقلیت مخالف متحرک کاری اور بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعض سنگین واقعات کا پس منظر بھی جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت نے متعدد مواقع پر مسلمانوں کو قومیت کے اعتبار سے ہندو اور مذہب کے اعتبار سے مسلمان قرار دینے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ محض مذہبی نظریہ نہیں بلکہ اس بات سے متعلق سیاسی تصور ہے کہ کسی ملک میں کس گروہ کو قومی شناخت کا حصہ سمجھا جائے۔ ڈاکٹر مزمل ایوب ٹھاکر نے کہا کہ کشمیر سینٹر برطانیہ میں ہندو مذہب یا برطانوی ہندو برادری کے خلاف مہم نہیں چلا رہا بلکہ اس کا اعتراض موہن بھاگوت کے دورے، ان کی قیادت میں موجود تنظیم اور اس کے سیاسی و نظریاتی منصوبے پر ہے۔
کشمیر سینٹر نے برطانیہ میں 2022 کے لیسٹر فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک سے آنے والی فرقہ وارانہ سیاست جب برطانوی معاشرے میں داخل ہوتی ہے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق لیسٹر میں ہونے والے واقعات سے متعلق تحقیقاتی عمل میں اس تشدد کو غیر معمولی، نقصان دہ اور قابلِ روک تھام قرار دیا گیا تھا۔ کشمیر سینٹر کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے صرف واقعے کے بعد کمیونٹی رابطہ یا پولیس اجلاس کافی نہیں، بلکہ کسی بھی بڑے اجتماع، سیاسی متحرک کاری اور ممکنہ کشیدگی سے قبل خطرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
کشمیر سینٹر نے کہا کہ موہن بھاگوت کو برطانیہ میں ایسا باوقار عوامی پلیٹ فارم فراہم نہیں کیا جانا چاہیے جہاں سے ان کے بقول فرقہ وارانہ یا اکثریتی سیاسی نظریات کو فروغ مل سکے۔
کشمیر سینٹر نے اپنی کارروائی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موہن بھاگوت کو برطانیہ میں داخل ہونے سے روکا جائے اور امیگریشن قوانین کے تحت ان کی آمد کا جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:اُترپردیش: بھارتی تربیتی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ اور انسٹرکٹر ہلاک
دوسرے مرحلے میں لندن میں ان کے پروگراموں کو پولیس کی نگرانی اور قانونی جانچ کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ اگر کسی سرگرمی میں برطانوی قانون کے تحت جرم کے شواہد سامنے آئیں تو قانون کے مطابق تحقیقات کی جا سکیں۔
کشمیر سینٹر نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے ہوم آفس میں باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے اور پولیس کو بھی ریفرل کیا جا رہا ہے۔
تنظیم نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا کہ موہن بھاگوت کے برطانیہ پہنچنے اور لندن میں پروگرام منعقد ہونے سے قبل ہی تمام قانونی اور امنِ عامہ کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔




