ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کو امریکا سے منسلک کرنیوالی خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سفارتی کوششیں اوررابطے فعال طور پر جاری رکھے گا، جن کا مقصد امن مذاکرات کی بحالی و تنازع کے جامع، منصفانہ، پائیدار حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
فیلڈ مارشل کا دورہ ایران پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا
گزشتہ روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ علاقائی سطح پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ مکمل طور پر پاکستان کے جاری ثالثی کردار کے تناظر میں کیا گیا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
عاصم منیر کو امریکی نمائندہ قرار دینا حقائق کے منافی ہے
طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعوے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکا کے ایلچی کی حیثیت سے ایران کا دورہ کیا، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دورہ ایران پاکستان کی اپنی سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کا حصہ تھا اور اسے کسی دوسرے ملک کی نمائندگی سے جوڑنا درست نہیں۔
پاکستان ایران سے تجارت جاری رکھنے کا خواہاں ہے
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی تجارت بین الاقوامی تجارتی قوانین کے تابع ہے اور پاکستان ایران کیساتھ تجارت کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کیخلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں، تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کئے جانے کی صورت میں صورتحال مختلف ہوگی۔
افغانستان سے مذاکرات کیلئے پاکستان کا مؤقف واضح
افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے عبوری افغان حکومت کے وزیر دفاع کی جانب سے دوطرفہ میکنزم کے قیام کی تجویز کو نوٹ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی افغانستان کیساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کیلئے کوئی بھی طریقہ کار اسی وقت پائیدار ثابت ہوسکتا ہے جب کابل اپنی سرزمین سے سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔
افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دی جائے
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ افغان طالبان کو محض زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ افغان حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے استعمال نہ ہو۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں سے متعلق پاکستان سے منسوب بعض ریمارکس کو ایرانی میڈیا پر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر توڑ پھوڑ پر احتجاج
ترجمان دفتر خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر توڑ پھوڑ کے واقعے پر احتجاج کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ویانا کنونشن کے تحت اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون مزید وسیع ،نیا معاہدہ طے پا گیا
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی صدارت سنبھالنےکیلئے تیار ہے۔ ایس سی او سربراہ اجلاس 31 اگست کو بشکیک میں ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔




