پاکستان کی معاشی پوزیشن بہتر: موڈیز نےکریڈٹ ریٹنگ جاری کردی

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے ون سے بڑھا کر بی تھری کردی جبکہ ریٹنگ میں اضافے سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔

دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریٹنگ میں بہتری حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے، حکومت اصلاحات کا عمل مزید تیز کرے گی۔

پیر کے روز موڈیز نے پاکستان کی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ میں ایک درجہ بہتری کرتے ہوئے اسے سی اے اے ون سے بی تھری کردیا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی ریٹنگ کا آؤٹ لک ’’مستحکم‘‘ برقرار رکھا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی: امریکی سفیر کے مسئلہ کشمیر پر متنازعہ بیان کیخلاف مذمتی قرارداد منظور

موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی مالیاتی کمزوریاں کم ہوئی ہیں جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جسے ملک میں جاری معاشی استحکام کی کوششوں سے تقویت ملی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ بہتر مالیاتی پوزیشن اور مانیٹری پالیسی میں نرمی کے باعث ملکی قرضوں کی فنانسنگ لاگت میں کمی آئی، جس سے پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی استطاعت میں نمایاں بہتری ہوئی ہے۔

موڈیز کے مطابق پاکستان کے مضبوط ہوتے کریڈٹ پروفائل نے بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں گزشتہ معاشی ادوار کی نسبت زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں جاری مشرق وسطیٰ کا تنازع بھی شامل ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق پاکستان کی کریڈٹ پروفائل میں بہتری اس بات کی عکاس ہے کہ ملک کی معیشت اور مالیاتی صورت حال میں بہتری آرہی ہے جب کہ قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت پر اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔

موڈیز کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کئی برس کی مالی مشکلات کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر دوبارہ بنانے اور معاشی اصلاحات پر پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔

موڈیز نے ریٹنگ میں بہتری کا اعلان پیر کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ بند ہونے کے بعد کیا۔ اعلان کے بعد پاکستانی ڈالر بانڈز میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بلومبرگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2051 میں میچور ہونے والے پاکستانی بانڈ میں 20 اگست کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔

پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کا یہ سلسلہ موڈیز سے قبل ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے بھی جاری رہا۔ ایس اینڈ پی نے جولائی میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ کرتے ہوئے معاشی اور مالیاتی حالات میں بہتری کو اس کی وجہ قرار دیا تھا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:طارق فاروق سپیکر اسمبلی نامزد، ڈپٹی سپیکر کیلئے مشاورت جاری

موڈیز کی جانب سے تازہ اپ گریڈ کو پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی اور مالیاتی پوزیشن کا اعتراف قرار دیا گیا ہے۔ بہتر کریڈٹ ریٹنگ سے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی بہتر ہونے اور نسبتاً آسان شرائط پر قرض اور سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

تاہم موڈیز کے مطابق ریٹنگ میں بہتری کے باوجود پاکستان کا قرض اب بھی ’’اسپیکیولیٹو گریڈ‘‘ میں ہے۔ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق ملک کے خطرے کے جائزے میں بہتری آئی ہے اور اسے ’’بہت زیادہ‘‘ سے ’’زیادہ‘‘ خطرے کے درجے میں لایا گیا ہے۔ ارجنٹائن، نائیجیریا اور کرغزستان کی خودمختار قرض ریٹنگ بھی اسی درجے میں ہے۔

موڈیز نے ساتھ ہی واضح کیا کہ پاکستان کا کریڈٹ پروفائل اب بھی بیرونی مالیات کی کمزوری، قرضوں کی ادائیگی کی محدود استطاعت اور ٹیکس آمدن کے نسبتاً محدود دائرے کے باعث خطرات سے دوچار ہے۔

پاکستان کئی برس کی مالی مشکلات کے بعد اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور معاشی اصلاحات پر کام کررہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان نے اپریل میں نجی پلیسمنٹ کے ذریعے عالمی بانڈ فروخت کیا تھا، جس کے بعد 4 سال سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد عالمی قرض مارکیٹ میں واپسی ہوئی۔ ایک ماہ بعد پاکستان نے چین کی آن شور مارکیٹ میں پہلی مرتبہ یوان میں مالیت والے نوٹس فروخت کیے، جو ملک کی جانب سے غیر ملکی کرنسی میں جاری کیا جانے والا کم ترین لاگت والا بانڈ تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیرمقدم
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے موڈیز کی جانب سے پاکستان کی خود مختار کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے قوم کو مبارکباد دی اور حکومت کی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت وزراء اور حکام کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری حکومتی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔

شہباز شریف نے عالمی مالیاتی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی معاشی صورت حال میں بہتری کے اعتراف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔