خالد محمود چغتائی،سردار ماجد رزاق کی پارٹی رکنیت ختم، نوٹیفکیشن جاری

مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر (پی پی پی-اے جے کے) نے 2026 کے عام انتخابات کے دوران مبینہ طور پر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اور مرکزی و تنظیمی ہدایات کو نظر انداز کرنے پر دو سینئر رہنماؤں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے ان کی پارٹی رکنیت ختم کردی۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پارٹی صدر چوہدری محمد یاسین نے سردار خالد محمود چغتائی اور سردار ماجد رزاق کے خلاف کارروائی کی منظوری دی۔ دونوں رہنما پارٹی میں اہم تنظیمی عہدوں پر فائز تھے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سردار خالد محمود چغتائی پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے نائب صدر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، جبکہ سردار ماجد رزاق مرکزی مجلس عاملہ (سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی) کے رکن تھے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور: شہید سب انسپکٹر عدنان فاروق کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت مل گئی

پارٹی کے مطابق دونوں رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی بنیادی وجہ انتخابات کے دوران تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارٹی کے فیصلوں اور ہدایات سے انحراف قرار دیا گیا ہے۔

پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی عمل کے دوران تنظیمی فیصلوں کی پابندی اور پارٹی پالیسی پر عمل درآمد ہر عہدیدار اور کارکن کی ذمہ داری ہے۔

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن سیکرٹری جنرل فیصل ممتاز راٹھور نے جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ مبینہ طور پر پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پارٹی حلقوں کے مطابق انتخابی مہم کے دوران کسی بھی رہنما یا کارکن کی جانب سے پارٹی کے باضابطہ فیصلوں کے برعکس سرگرمیوں کو تنظیمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

حالیہ کارروائی کو بھی پارٹی قیادت کی جانب سے نظم و ضبط برقرار رکھنے اور انتخابی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر :مریم نام کے چرچے،تین مریم اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں بڑی سیاسی جماعتوں کے اندر ٹکٹوں کی تقسیم، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی اتحاد جیسے معاملات پر اختلافات پیدا ہونا معمول ہے،

تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے اہم عہدیداروں کی رکنیت ختم کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیادت انتخابی حکمت عملی اور تنظیمی فیصلوں پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔