وادی نیلم(راجہ ساجد، کشمیر ڈیجیٹل) آزادکشمیر کی وادی نیلم سے 3 نوجوانوں کی لاشیں ملنے پر علاقے میں ہنگامہ برپا ہوگیا ۔
آزادکشمیر کی وادی نیلم میں جاگراں ویلی سے 3 نوجوانوں کی لاشیں ملیں جن کی شناخت یاسر بلوچ، ناصر اور فیصل اعوان کے نام سے ہوئی ۔
ریسکیو حکام کے مطابق مقتولین کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ تینوں افراد 3 جولائی کو بابون ویلی سیر کیلئے نکلے تھے جس کے بعداچانک لاپتہ ہوگئے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی: مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن گئی، حلف برداری مکمل
ریسکیو حکام کے مطابق مویشی چرانے والی خواتین نے جنگل میں لاشیں دیکھ کر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جس کے بعد لاشوں کو تحویل میں لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بابون ویلی میں لاپتہ ہونے والے تین نوجوانوں کی نعشیں ڈی ایچ کیو ہسپتال آٹھ مقام منتقل کر دی گئیں ۔
تینوں نوجوان یاسر بلوچ ناصر پسران غلام حسین سکنہ چلائی ،فیصل اعوان ولد شاہ زمان سکنہ جاگراں سیر تفریح کیلئے 29جون کو جاگراں ویلی سے بابون میڈوز کی طرف گئے تھے۔
5جولائی سےمتوفیان کا رابطہ گھر والوں سے منقطع ہو گیا تھاجس کے بعد ورثا نےتلاش شروع کر دی ۔ سٹی تھانہ پولیس آٹھمقام میں مکتوب الخبری کی رپورٹ درج کروائی گئی تھی ۔
گزشتہ روز مقامی خواتین نے ڈیڈ باڈیز دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔ضلعی انتظامیہ رات گئے ریسکیوٹیموں پولیس ریکوری آپریشن کرتے ہوئے نعشوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال آٹھ منتقل کیا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سرحد یونیورسٹی واقعہ: پاک فوج نے نوٹس لے لیا، آرمڈ فورسز کے آفیسر کے خلاف مقدمہ درج
متوفیان یاسربلوچ ،ناصربلوچ ،فیصل اعوان ڈیڈباڈیز پوسٹ مارٹم کے بعد تدفین کیلئے ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
نوجوانوں کی ناگہانی موت کی تحقیقات کی جائیں،ورثاء کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصل اعوان ،یاسر،ناصر 29جولائی کو سیر تفریح کیلئے بابون میڈوز کی طرف گئے تھے۔
نوجوانون کی پرسرار گمشدگی اور موت ورثاء کیلئے معمہ بن گئی،ورثاءصدمے سے دوچارہیں۔دو نعشوں کے سر اور ایک کی ٹانگیں غائب ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق ڈیڈباڈیز کے اعضاء مسخ ،فوری موت کی وجوہات کاتعین مشکل ہے،پولیس زیردفعہ 174تفتیش شروع کردی ہے۔
نعشیں مسخ شدہ ہیں فارنزک رپورٹ پرموت کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔پولیس نے ورثاء کی رپورٹ پر دفعہ174 تحت انوسٹیگیشن شروع کر دی ہے،
سید وجاہت کاظمی انسپکٹر سٹی تھانہ پولیس آٹھمقام نے کہا کہ افسوسناک واقعے پر پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔اموات کی وجوہات جاننے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔




