آزادکشمیر یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیرمظفرآباد اور ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کے درمیان تعلیمی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کیلئے پانچ سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردیئے گئے۔

مفاہمتی یادداشت پر وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک اور ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے دستخط کئے۔

تقریب میں دونوں جامعات کے رجسٹرارز، ڈینز، تعلیمی شعبہ جات کے سربراہان اور دیگر انتظامی افسران نے شرکت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم یوتھ لون اسکیم، وزیراعظم آزادکشمیرکے اعلان پرعملدرآمد نہ ہوسکا

معاہدے کے تحت تحقیق و ترقی، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، مشترکہ تحقیقی اشاعتوں اور تعلیمی نگرانی کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ متعلقہ ادارہ جاتی ضوابط کے تحت وزٹنگ اسکالرز اور پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین کے تبادلے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں جامعات ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور دیگر ڈونر اداروں کے ذریعے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کیلئے فنڈنگ کے مواقع تلاش کریں گی۔

دونوں ادارے سیمینارز، ورکشاپس، انٹرن شپ پروگرامز اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت سمیت علمی اور تکنیکی تعاون کو بھی فروغ دیں گے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر اسمبلی: مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت بن گئی، حلف برداری مکمل

معاہدے میں دونوں جامعات کے شعبہ جاتِ ارضیات (Geology) کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی روابط کو خصوصی اہمیت دی گئی جس کا مقصد تدریس، تحقیق اور علمی معلومات کے تبادلے میں تعاون کو وسعت دینا ہے۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت دونوں اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور مشترکہ تحقیق و تعلیمی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے ایک مؤثر فریم ورک فراہم کرے گی۔

انہوں نے علم، جدت اور تحقیقی استعداد کو فروغ دینے کیلئے جامعات کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دونوں جامعات کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا ۔

طلبہ و فیکلٹی ارکان کو ایک دوسرے کی مہارتوں اور وسائل سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔

پانچ سالہ شراکت داری سے دونوں اداروں کے درمیان مستقل بنیادوں پر تعاون کیلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم میسر آنے اور پاکستان میں تحقیق، جدت اور تعلیمی معیار کے فروغ میں مدد ملنے کی توقع ہے۔