راولپنڈی / اسلام آباد: سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد (روات) کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ہونے والی بدنظمی اور ہوائی فائرنگ کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاک فوج کی جانب سے معاملے کا سخت ترین نوٹس لیے جانے کے بعد اسلام آباد پولیس نے آرمڈ فورسز کے متعلقہ افسر کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ احتجاجی طلبہ کو ہر ممکن قانونی تعاون اور انصاف فراہم کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
بلا تفریق احتساب :
عسکری حکام کے مطابق پاک فوج کا نظامِ عدل اور ڈسپلن غیر جانبدارانہ اور شفافیت پر مبنی ہے۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہی عسکری قیادت نے افسر کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لے کر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، جس کے بعد اب قانون کے مطابق پولیس کا باضابطہ پرچہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور انصاف کے تقاضے بلا تفریق پورے کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانی وزیر داخلہ کی اہم ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو
واقعے کا پس منظر:
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے روات کیمپس میں طلبہ فیسوں، کلاسز کی شیڈولنگ اور انتظامی مسائل پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس کے دوران طلبہ اور شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ خاتون کے شوہر، جو کہ پاک فوج میں افسر ہیں، کیمپس پہنچے تو گفتگو ہاتھا پائی اور ہوائی فائرنگ تک جا پہنچی، جس سے شدید کشیدگی پھیل گئی۔
پولیس اور انتظامیہ کا موقف:
اسلام آباد پولیس کے مطابق انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو مکمل کنٹرول میں لیا۔ پولیس حکام نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدام اٹھایا جائے گا۔ فی الوقت یونیورسٹی میں حالات بالکل معمول پر ہیں۔




