مسئلہ کشمیر

ایران صحیح معاہدہ کیلئے تیار نہیں، ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے،ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ ایران اختلافات برقرار رہنے کے باوجود معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز سے جنوبی کیرولائنا کے شہر مرٹل بیچ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میری رائے میں وہ صحیح معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ہم یہ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، عراقچی نے امریکی پابندیوں کو دہشتگردی قرار دیدیا

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس پیسہ نہیں، بحریہ اور فضائیہ نہیں جبکہ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو بھی تنخواہیں ادا نہیں کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران میں افراطِ زر 350 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اب ہم صرف یہ دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ امریکا کو اس پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ اس سے متصل زمینی علاقے بھی شامل ہیں۔

دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت دھونس اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا تاہم جنگ کسی نہ کسی مرحلے پر ختم ہونی ہے اور بہتر یہی ہے کہ اسے آج ہی ختم کی جائے، جب ایران طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے جس کی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔

ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں مل سکتی جو ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی نشاندہی کرتی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کا اثر،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

انہوں نے کہا کہ ایران امن کو مسترد نہیں کرتا تاہم دھوکے کے پیش نظر چوکس رہنا ضروری ہے اور ہم کسی صورت دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، آخری سانس تک ان کے خلاف کھڑے رہیں گے اور انہیں فیصلہ کن جواب دیں گے۔

انہوں نے جنگ اور بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ ہمیں جنگ سے پیدا ہونے والی مہنگائی سمیت دیگر مسائل کیلئے تیار رہنا چاہیے اور اسے قبول کرنا چاہیے۔